نیشنل پریس ڈے پر صحافیوں کے لیے تحفے میں فلیٹس

آذربائیجان تصویر کے کاپی رائٹ President.AZ

آذربائیجان کے 255 صحافی نیشنل پریس ڈے پر دیگر صحافیوں کے مقابلے میں بہت خوش ہوں گے۔

مقامی اخبار کے مطابق 22 جولائی کو منائے جانے والے نیشنل پریس ڈے کے موقعے پر حکومت نے 255 صحافیوں کو ان کی خدمات کے صلے میں فلیٹس دیے ہیں۔

نیشنل پریس ڈے 22 جولائی کو اس لیے منایا جاتا ہے کہ سنہ 1875 میں اسی روز آذربائیجانی زبان کا پہلا اخبار 'آکنجا' شائع ہوا تھا۔

آذربائیجان کے سابق صدر حیدر آلیا نے نیشنل پریس ڈے 2010 میں منانا شروع کیا تھا۔ رواں سال ان کے بیٹے اور موجودہ صدر الہم آلیا نے اس دن صحافیوں کو مفت فلیٹس دینے، پریس کے فروغ کے لیے مالی معاونت اور مزید صحافیوں کے لیے فلیٹس بنانے کے لیے رقم کا اعلان کیا۔

واضح رہے کہ باکو کے مضافات میں ایک کمرے کے فلیٹ کی قیمت 50 ہزار ڈالر ہے جبکہ اوسط تنخواہ 297 ڈالر ہے۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ صحافیوں کو نوازا گیا ہے۔ حکومت نے صحافیوں کے لیے فلیٹس کا اعلان پہلی بار 2013 میں کیا تھا۔

'صحافی ہمارے مددگار ہیں'

تصویر کے کاپی رائٹ President.AZ

نیشنل پریس ڈے کے موقعے پر صدر نے بات کرتے ہوئے حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا 'سرکاری اہلکاروں کو معلوم ہے کہ اظہار رائے کی آزادی اور میڈیا ان کو اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ ان کے کام میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی ہو۔ اسی لیے صحافی ہمارے مددگار ہیں اور میں ان کا ممنون ہوں۔'

ایک دوسری تقریب پر صدر نے کہا کہ آذربائیجان میں اظہار رائے کی آزادی کا پورا خیال رکھا جاتا ہے اور میڈیا پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہے۔

تاہم امریکہ میں قائم میڈیا کے لیے کام کرنے والی تنظیم فریڈم ہاؤس کا کہنا ہے کہ آذربائیجان میں میڈیا آزاد نہیں ہے۔

ایک اخبار کے چار صحافیوں کو فلیٹ عنایت کیے گئے۔ اس اخبار کے مدیر، ڈائریکٹر جنرل اور مالک کو بھی فلیٹ دیے گئے۔ اس اخبار نے اداریے میں لکھا کہ 'ہم صدر کے بے حد مشکور ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ہمارے دیگر ساتھیوں کو زیر تعمیر نئے فلیٹس میں سے فلیٹس دیے جائیں گے۔'

کئی افراد نے حکومت کے اس اقدام پر تنقید بھی کی۔

صحافی کمال علی نے کہا ’مفت فلیٹ جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ واضح ہے کہ جنہیں یہ مہنگے تحفے ملے ہیں اب ان کی اخلاقی ذمہ داری کیا ہوگی۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں