چھ ماہ تک ہر روز وہ میرا ریپ کرتا رہا: یزیدی لڑکی کی کہانی

اخلاص

'چھ ماہ تک ہر روز وہ میرا ریپ کرتا رہا۔ میں نے اپنی جان لینے کی کوشش کی۔'

یہ کہنا ہے يزيدی لڑکی اخلاص کا۔

اخلاص اس وقت محض 14 سال کی تھیں جب شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے شدت ہسندوں نے انھیں اغوا کر کر جنسی کنیز بنا لیا۔

عراق کی دو یزیدی خواتین کے لیے سخاروف ایوارڈ

عراق میں یزیدیوں کا مستقبل

2014 میں دولتِ اسلامیہ کے نشانے پر خاص طور پر يزیدی لوگ تھے۔ یزیدی ایک مذہبی گروہ ہے جو شمالی عراق کے علاقوں میں صدیوں سے رہتا آ رہا ہے۔

دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے مردوں کو موت کے گھاٹ اتارا اور عورتوں کو اغوا کر لیا۔

اگرچہ اخلاص نے دولتِ اسلامیہ کی گرفت سے بچنے کے لیے سنجار کے علاقے سے فرار ہونے کی کوشش کی، لیکن وہ پھر بھی ان لوگوں کی گرفت میں آ گئیں۔

دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے انھیں یرغمال بنا لیا اور ان میں سے ایک نے انھیں چھ ماہ تک جنسی کنیز بنا کر رکھا۔

اخلاص نے بتایا کہ دولتِ اسلامیہ کے ایک جنگجو نے انھیں 150 لڑکیوں میں سے قرعہ نکال کر منتخب کیا تھا۔

اخلاص بتاتی ہیں: 'وہ بے حد بدصورت تھا۔ لمبے بالوں والا وہ شخص کسی جانور کی طرح تھا۔ اس کے جسم سے بو آتی تھی۔ میں اتنی ڈر گئی تھی کہ اس کی طرف دیکھنا تک مشکل تھا۔'

پناہ گزین کیمپ

ایک دن دولتِ اسلامیہ کا وہ شدت پسند کہیں جنگ پر گیا ہوا تھا اور تبھی اخلاص کو وہاں سے فرار ہونے کا موقع ملا اور وہ اس میں کامیاب ہو گئیں۔

بعد میں اخلاص کو ایک پناہ گزین کیمپ لے جایا گیا۔

دکھ درد سے بھرے ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے اخلاص کہتی ہیں: 'میں بغیر روئے اب یہ کیسے بتا پا رہی ہوں۔ میرے آنسو سوکھ گئے ہیں۔'

اخلاص فی الحال جرمنی کے ایک ہسپتال میں ہیں جہاں علاج کے ساتھ ساتھ انھیں تعلیم بھی دی جا رہی ہے۔

اخلاص کا خواب ہے کہ وہ وکیل بنیں۔

اسی بارے میں