جہاں ہر کوئی دوسروں کی آمدن سے واقف ہے

ناروے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

رواں ہفتے بی بی سی نے اپنے سٹار پریزنٹرز کی تنخواہیں ظاہر کیں لیکن ان کے مقابل اداروں کی تنخواہیں ابھی بھی صیغۂ راز میں ہیں۔

لیکن ناروے ایک ایسا ملک ہے جہاں کسی کی تنخواہ کسی کے لیے راز نہیں۔ کوئی بھی یہ معلوم کر سکتا ہے کہ کس کو کتنی تنخواہ ملتی ہے اور اس سے کسی کو کوئی پریشانی بھی نہیں۔

پہلے آپ کی تنخواہ ایک کتاب میں شائع ہوتی تھی جس میں سب کی آمدن، املاک اور جو ٹیکس انھوں نے ادا کیا، ان کی تفصیلات درج ہوتی تھیں اور یہ کتاب کسی بھی لائبریری میں دستیاب ہوتی تھی۔

٭ بی بی سی میں مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تنخواہ کم

٭ ناروے میں نقاب پوش ترجمان پر تنازع

لیکن اب یہ معلومات آن لائن موجود ہیں اور کی بورڈ کے چند بٹن کو دباتے ہی آپ کو حاصل ہو جاتی ہے۔

یہ تبدیلی سنہ 2001 میں آئی اور اس کے اثرات بھی مرتب ہوئے۔

ناروے کے قومی روزنامے وی جی کے سابق معاشی مدیر ٹام سٹاوی نے کہا: ’بہت سے لوگوں کے لیے یہ پوری طرح سے تفریح کا سامان تھا۔ ایک وقت آئے گا کہ فیس بک پر آپ کے دوستوں کو از خود یہ پتہ چل جائے گا کہ آپ نے کیا کمایا ہے۔ یہ بہت مضحکہ خیز ہوتا جا رہا ہے۔‘

Image caption یہاں ناروے کی وزیر اعظم ایرنا سولبرگ کی آمدن، املاک اور ٹیکس کی سنہ 2015 تفصیل نظر آ رہی ہے

شفافیت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ ناروے کے باشندے قدرے زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

یوروسٹیٹ کے مطابق وہ اوسطاً 40.2 فیصد ٹیکس دیتے ہیں جبکہ برطانیہ میں ٹیکس کی شرح 33.3 فیصد ہے اور یورپ میں اوسط ٹیکس 30.1فیصد ہے۔

ٹام سٹاوی نے کہا: 'جب آپ اتنا ادا کرتے ہیں تو آپ یہ جاننا چاہیں گے کہ سب ایسا کر رہے ہیں اور یہ کہ پیسے کام کی مد میں جار رہے ہیں۔'

ہمیں ٹیکس کے نظام اور سوشل سکیورٹی کے نظام دونوں پر یقین اور اعتماد ہے۔

اور یہ چیزیں کسی قسم کے حسد سے زیادہ اہم ہیں۔

Image caption ناروے میں آمدن اور ٹیکس کی تفصیل والی کتاب 1814 سے شا‏ئع ہو رہی ہے اور ہر کوئی ہر کسی کی آمدن دیکھ سکتا ہے

درحقیقت بہت سی جگہوں پر لوگوں کو بغیر پوچھے یہ علم ہوتا ہے کہ ان کے ساتھی کتنا کما رہے ہیں۔

بہت سے شعبوں میں تنخواہ مشترکہ معاہدے سے طے ہوتی ہے اور تنخواہ میں فرق بہت کم ہے۔

بین الاقوامی معیار کے مطابق جنس کی بنیاد پر بھی تنخواہوں میں بہت کم فرق ہے۔

ورلڈ اکانومک فورم ناروے کو ایک ہی کام کے لیے اجرت کے معاملے میں عورتوں اور مردوں میں کم فرق برتنے والا دنیا کا تیسرا ملک قرار دیتا ہے۔

تاہم اب اس میں قدرے سختی لائی گئی ہے اور اب کوئی بھی شخص بغیر اپنی شناخت ظاہر کیے کسی کی تفصیل نہیں دیکھ سکتا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں