روس کے خلاف پابندیوں کے نئے بل کا معاہدہ، صدر کے اختیارات میں کمی

کیپیٹل ہل تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سینیٹر بین کارڈن کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتیں شدید بحث کے بعد اس بل پر متفق ہوئیں

امریکی کانگریس میں دونوں جماعتوں کے رہنما صدارتی انتخابات میں روس کی مبینہ مداخلت پر اس کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کے لیے قانون سازی پر رضامند ہو گئے ہیں۔

نئے قانون کے تحت روس پر سے پابندیاں اٹھانے کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیارات بہت محدود ہو جائیں گے۔

صدر ٹرمپ اور ولادی میر پوتن کے درمیان دو خفیہ ملاقاتیں

روس کا امریکہ سے سفارتی کمپاؤنڈز کی واپسی کا مطالبہ

صدر ٹرمپ کی صدارت میں روس کی جانب سے امریکی انتخاب میں مبینہ مداخلت کا بہت شور برپا ہے۔

تاہم ماسکو کی جانب سے مداخلت کے الزام کو رد کیا جا رہا ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کا مطلب یہ ہے کہ کانگریس روس کے خلاف سخت گیر موقف اپنائے گی چاہے صدر ٹرمپ کا جو بھی موقف ہو۔

اگرچہ اس بل کو صدر ٹرمپ ویٹو کر سکتے ہیں لیکن ایسا کرنے کا مطلب یہ اشارے دینا ہے کہ وہ روس کے بہت زیادہ حامی ہیں۔

لیکن اگر وہ اس بل کو ویٹو نہیں کرتے تو وہ اس بل کی منظوری دیں گے جس کے خلاف ان کی انتظامیہ ہے۔

سینیٹ کی فارن ریلیشنز کمیٹی میں ڈیموکریٹ جماعت کے سینیئر ترین رہنما سینیٹر بین کارڈن کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتیں شدید بحث کے بعد اس بل پر متفق ہوئیں۔

'متفق کانگریس امریکی صدر کو عوام اور اتحادیوں کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا چاہتی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ یہ پیغام آگے پہنچائیں۔'

سینیٹ میں ڈیموکریٹ جماعت کے رہنما چک شومر نے کہا کہ ایوان نمائندگان اور سینیٹ اس بل پر جلد از جلد عمل کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پابندیوں کے حوالے سے ایک مضبوط بل کی ضرورت تھی۔

اس بل میں شمالی کوریا اور ایران پر بھی مزید پابندیاں عائد کرنے کا امکان ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption دسمبر میں اس وقت کے صدر براک اوباما نے الیکشن ہیکنگ کے حوالے سے 35 روسی سفارتکاروں کو ملک چھوڑ دینے کا حکم دیا تھا اور دو روسی کمپاؤنڈ بند کر دیے گئے تھے

اس بل کے تحت روس پر 2014 میں کریمیا پر قبضہ کرنے اور امریکی انتخاب میں مبینہ طور پر مداخلت کرنے پر نئی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ دسمبر میں اس وقت کے صدر براک اوباما نے الیکشن ہیکنگ کے حوالے سے 35 روسی سفارتکاروں کو ملک چھوڑ دینے کا حکم دیا تھا اور دو روسی کمپاؤنڈ بند کر دیے گئے تھے۔

روس نے مطالبہ کیا تھا کہ امریکہ قبضے میں لیے گئے دونوں کمپاؤنڈ کو روس کے حوالے کرے اور اگر ایسا نہیں کیا گیا تو روس جوابی کارروائی کرے گا۔

گذشتہ ہفتے اعلیٰ سطح کی بات چیت کے بعد ایک روسی اہلکار نے کہا تھا کہ کمپاؤنڈ کا مسئلہ تقریباً حل ہو گیا ہے۔

تاہم اس نئے بل کے تحت صدر ٹرمپ پابندیوں میں تبدیلی یا سفارتی جائیداد کی واپسی کانگریس کی منظوری کے بغیر نہیں کر سکتے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں