اردن میں اسرائیلی سفارتخانے پر حملہ، دو افراد ہلاک، ایک زخمی

اومان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حملے کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی

اردن کے دارالحکومت عمان میں واقع اسرائیلی سفارتخانے میں فائرنگ کے ایک واقعے میں اردن کے دو شہری ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ایک اسرائیلی زخمی ہوا ہے۔

پولیس نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے دونوں شہری ایک فرنیچر کمپنی کے لیے کام کرتے تھے اور فائرنگ سے قبل سفارتخانے میں داخل ہوئے تھے۔

اس معاملے میں ابھی کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی ہے اور اس بات کا بھی علم نہیں کہ فائرنگ کا سبب کیا تھا۔

سکیورٹی فورسز نے سفارتخانے کو سیل کر دیا ہے اور اسرائیلی حکام نے عمارت خالی کر دی ہے۔

اردن کی پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ ایک رہائشی مکان میں ہوا جو اسرائیلی سفارتخانے کے استعمال میں تھی۔

پولیس نے بتایا کہ تحقیقات ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہیں۔ انتہائی سکیورٹی والا یہ سفارتخانہ عمان کے پوش علاقے رابیہ کے پاس واقع ہے۔

جائے وقوعہ پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سفارتخانے کے ارد گرد کے علاقے کو آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے اور حکام کی جانب سے کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئی۔

تاحال یہ علم نہیں ہے کہ یہ حملہ کس نے کیا، تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ اس حملے کا تعلق اسرائیل کی جانب سے قدیم یروشلم شہر میں اسرائیلی سکیوٹی اقدامات سے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جمعے کو عمان میں ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ مسجد اقصیٰ میں کیے جانے والے اقدامت واپس لیے جائیں۔

خیال رہے کہ یروشلم کے مقدس مقام پر نئے سکیورٹی انتظامات کیے جانے پر یروشلم میں بھی اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں میں جھڑپیں ہوئیں جبکہ فلسطین کے صدر محمود عباس نے حرم الشریف میں میٹل ڈیٹکٹر لگائے جانے کے بعد اسرائیل کے ساتھ اپنے تمام رابطے ختم کر دیے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایک ہفتہ قبل دو اسرائیلی پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد مزید سکیورٹی کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ سنہ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر قبضہ کر لیا تھا۔

اسی بارے میں