اسرائیل نے حرم الشریف میں تلاشی کے متنازع سسٹم کو ہٹانے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پولیس اور میٹل ڈیٹیکٹرز کے سامنے فلسطینی شہری کھڑے ہیں

اسرائیل نے یروشلم میں مسلمانوں اور یہودیوں کے مقدس مقام کے انٹری پوائنٹس پر لگائے جانے والے میٹل ڈیٹیکٹرز کو ہٹا کر تلاشی کے لیے کم رکاوٹ پیدا کرنے والے جدید آلات استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس مقدس مقام کو مسلمان حرم الشریف جبکہ یہودی ٹیمپل ماؤنٹ کہتے ہیں۔

اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کی سکیورٹی کابینہ کی جانب سے اس معاملے پر رائے شماری منگل کی صبح ہوئی۔

خیال رہے کہ اس سے قبل 14 جولائی کو اس مقام پر دو اسرائیلی پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد اسرائیلی حکام کی جانب سے وہاں میٹل ڈیٹیکٹر لگانے شروع کیے گئے تاہم فلسطینیوں کی جانب سے اس پر احتجاج کیا گیا۔

اسرائیل کے اس فیصلے سے چند ہی گھنٹے قبل مشرق وسطیٰ کے لیے اقوامِ متحدہ کے سفیر نے خبردار کیا تھا کہ یروشلم کے مقدس مقام پر جمعے تک کشیدگی کو ختم کیا جانا ضروری ہے بصورت دیگر خطرہ اس تاریخی شہر میں پھیل جائے گا۔

وزیراعظم نتن یاہو کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی کابینہ معائنہ کرنے کے لیے میٹل ڈیٹیکٹرز کے بجائے جدید ٹیکنالوجی کے دیگر ذرائع کے استعمال کے لیے تمام سکیورٹی اداروں کی سفارشات کو منظور کرتی ہے۔

اس سے قبل اسرائیل کا کہنا تھا کہ 14 جولائی کو فائرنگ کرنے والے حملہ آور وہاں گنز سمگل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے اور میٹل ڈیٹیکٹرز کی ضرورت اس قسم کے حملوں کو روکنے کے لیے ہے۔

جمعہ 21 جولائی کو تین فلسطینی شہری اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی روز اس واقعے کے بعد ایک فلسطینی کے ہاتھوں تین اسرائیلی شہری زخمی ہونے کے بعد ہلاک ہو گئے جبکہ ایک شخص زخمی ہوا۔

پیر کو اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا بند کمرہ اجلاس یروشلم کی صورتحال کے حوالے سے ہی ہوا۔

اجلاس کے بعد اقوام متحدہ کے سفیر نکولے ملادینو نے کہا کہ 'یہ بہت اہم ہے کہ حالیہ کشیدگی کا حل آنے والے جمعے تک نکال لیا جائے۔ میرا خیال ہے کہ اگر جمعے کو عبادت کا دور بغیر کسی حل کے گزر گیا تو زمینی صورتحال مزید خراب ہو جائے گی۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'کسی کو بھی یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ یہ مقامی نوعیت کے واقعات ہیں۔ درحقیقت شاید یہ چند سو مکعب میٹر پر ہے لیکن یہ دنیا کے اربوں نہیں تو لاکھوں افراد کو ضرور متاثر کر رہے ہیں۔'

تاہم فلسطینی میٹل ڈیٹیکٹرز کے لگانے کے فیصلے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ ایسا کرنے کے پیچھے اسرائیل کا مقصد مقدس مقامات پر کنٹرول حاصل کرنا ہے اور یہ ان مقامات تک رسائی حاصل کرنے کے دیرینہ انتظامات کی خلاف ورزی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

بہت سے فلسطینیوں نےان میٹل ڈیٹیکٹرز سے گزر کر حرم الشریف میں داخل ہونے کے بجائے گلیوں میں نماز ادا کی۔

اتوار کو اسرائیل نے مقدمس مقام کے داخلی راستے پر سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگائے گئے۔

خیال رہے کہ یہودیوں کے لیے یہ دو یہودی مزاروں کا مقام ہے جبکہ مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق یہ وہ جگہ ہے جہاں سے پیغمبر اسلام نے معراج کا سفر کیا تھا۔

سنہ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر اپنا قبضہ قائم کر لیا تھا۔

اسرائیل فلسطینیوں پر اشتعال انگیزی کا الزام عائد کرتا ہے جبکہ فلسطینی قیادت ان حملوں کا الزام دہائیوں سے اسرائیلی قبضے سے پیدا ہونے والی مایوسی پر عائد کرتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں