سعودی اتحادیوں کا قطری اور یمنی ’دہشت گرد‘ گروہوں کو بلیک لسٹ کرنے کا اعلان

قطر تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک نے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے یمن، قطر اور لیبیا سے تعلق رکھنے والے فلاحی اداروں اور کارکنوں کو اسلامی شدت پسندوں کے ساتھ مشتبہ تعلقات پر ’دہشت گرد‘ قرار دے کر بلیک لسٹ کر دیا ہے۔

منگل کو سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کی جانب سے جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں نو فلاحی اداروں اور نو دیگر افراد کو 'قطری انتظامیہ کے ساتھ بلاواسطہ یا بالواسطہ‘ تعلق رکھنے کے الزام کے ساتھ ’دہشت گرد‘ قرار دیا ہے۔

٭ قطر کے امیر عرب ممالک کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار

٭ ’قطر 13 مطالبات پر نہیں صرف چھ اصولوں پر عمل کرے‘

٭ بات چیت کے لیے انھیں پابندیاں ہٹانی ہوں گی: قطر

یاد رہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے جون میں قطر کی مبینہ طور پر دہشت گردی کی حمایت اور ایران کے ساتھ روابط کی بنا پر تعلقات ختم کرتے ہوئے قطر کے سامنے کئی مطالبات رکھے تھے۔

تاہم قطر ان تمام الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تین یمنی اورلیبیا کی چھ تنظیموں پر القاعدہ اور شامی گروہ کے ساتھ تعلقات کا الزام ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’قطر اور یمن کے تین، تین، لیبیا کے دو اور کویت کا ایک شہری شام کی جبہت النصرہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے مدد کرنے کے لیے فنڈ اکھٹا کرنے کی مہم چلانے میں ملوث ہیں۔‘

واضح رہے کہ کویت چار عرب ممالک کی جانب سے قطر کے بائیکاٹ میں شامل نہیں ہے بلکہ وہ اس بحران کے خاتمے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔

اس سے قبل گذشتہ دنوں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی نے کہا تھا کہ وہ چار عرب ممالک کے بائیکاٹ کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

یہ بحران شروع ہونے کے بعد عوامی سطح پر اپنے پہلے خطاب میں شیخ تمیم بن حماد الثانی کا کہنا تھا کہ کسی بھی حل کو قطر کی خود مختاری کا احترام کرنا ہوگا۔

اسی بارے میں