ترکی: مخصوص ٹی شرٹ پہننے پر درجنوں گرفتار

ترک طلبہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ترک حکام اس ٹی شرٹ میں ملبوس لوگوں کی پکڑ دھکڑ کر رہے ہیں

ترکی میں سکیورٹی فورسز ایک ٹی شرٹ کی تلاش میں ہیں جس کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ ممنوعہ گولن تحریک اور گذشتہ برس ہونے والی بغاوت سے منسلک ہے۔

سی این این ترک کی رپورٹ کے مطابق پچھلے دس دنوں میں پولیس نے 30 ایسے لوگوں کو گرفتار کیا ہے جنھوں نے اس قسم کی ٹی شرٹیں پہن رکھی ہیں جن پر 'ہیرو' لکھا ہے۔

چینل نے بتایا: 'بعض امتحان دینے کے لیے جا رہے تھے، بعض یونیورسٹیوں میں تھے۔ پولیس نے تقریباً ہر ایسے شخص کو پکڑ لیا جس نے یہ ٹی شرٹ پہن رکھی تھی۔' چینل کے مطابق گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔

بظاہر اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ماہ کے اوائل میں ناکام بغاوت میں شامل ایک سابق فوجی جب عدالت میں پیش ہوا تو اس نے یہی ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔

جولائی 2016 میں ہونے والی اس بغاوت کا الزام ترک حکومت فتح اللہ گولن اور ان کی تنظیم پر الزام لگاتی ہے۔

ترک حکومت نے اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ ٹی شرٹ گولن کی حمایت اور بغاوت کی علامت ہے۔

حکومت نواز اخبار صباح نے لکھا ہے کہ ٹی شرٹ پر جو لفظ ہیرو لکھا ہے وہ ترکی زبان میں 'پیارے امام کی برکت' کا مخفف ہو سکتا ہے اور امام سے مراد فتح اللہ گولن ہو سکتے ہیں۔ اخبار کے مطابق گولن کے حامی اس قسم کی علامتی زبان استعمال کرتے رہے ہیں۔

شرٹ کا مطلب جو بھی ہو، اب یہ فروخت کے لیے دستیاب نہیں ہے۔ اسے ایک مقبول برینڈ فروخت کرتا تھا اور اس کی قیمت 4.20 ڈالر کے قریب تھی۔ جموریت اخبار کے مطابق کمپنی نے اسے اپنی دکانوں سے ہٹا لیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں