اسرائیل کا الجزیرہ ٹی وی پر یروشلم میں تشدد کو ہوا دینے کا الزام

الجزیرہ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ ٹی وی پر یروشلم میں تشدد کو ہوا دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس سے اسرائیل میں اپنا دفتر بند کرنے کو کہا ہے۔

سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ میں اسرائیلی وزیر اعظم نے قطری نشریاتی ادارے پر یروشلم کے مقدس مقام حرم الشریف یا ٹیمپل ماؤنٹ میں تشدد کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا ہے۔

بن یامین نتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر الجزیرہ کو اسرائیل سے باہر نکالنے کے لیے کسی قانون سازی کی ضرورت پڑی تو وہ اس پر کام کریں گے۔

حرم الشریف پر سختی کے خلاف فلسطینی احتجاج جاری

حرم الشریف میں تلاشی کے متنازع سسٹم کو ہٹانے کا اعلان

یروشلم: مغربی کنارے میں جھڑپوں کے بعد تین اسرائیلی شہری ہلاک

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا ہے ’الجزیرہ چینل مسلسل ٹیمپل ماؤنٹ کے ارد گرد تشدد کو ہوا دے رہا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

فیس بک پر اپنی ایک پوسٹ میں انھوں نے مزید کہا ’میں نے کئی بار قانون نافذ کرنے والے اداروں سے الجزیرہ کے دفتر کو یروشلم میں بند کرنے کی درخواست کی ہے لیکن اس میں کوئی قانونی رکاوٹیں ہیں تو میں الجزیرہ کو اسرائیل سے نکالنے کے لیے ضروری قانون سازی کروں گا۔‘

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ ٹی وی نے فی الحال اسرائیلی وزیراعظم کے اس بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیل اس سے قبل بھی کئی مرتبہ الجزیرہ پر اسرائیل اور فلسطین کے تنازع پر متعصب کوریج کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔

قطر میں جاری حالیہ بحران کے باعث سعودی عرب پہلے ہی الجزیرہ کے دفاتر بند کر کے نشریاتی لائسنس ختم کر چکا ہے جس کی وجہ اس کے مطابق یہ ہے کہ 'الجزیرہ شدت پسندوں کے منصوبوں کو آگے پھیلاتا ہے، سعودی عرب کے خلاف لڑنے والے حوثی باغیوں کی حمایت کرتا ہے اور سعودی عرب کے اندرونی رینکس کو توڑنے کی کوشش کر چکا ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں