ابتدئی ہزار دنوں میں غذائیت کی قلت کے اثرات، تصاویر میں

Two children dish out food تصویر کے کاپی رائٹ UBELONG/Raul Roman

افریقی ملک گھانا میں بچوں کے زندگی کے ابتدائی 1,000 دنوں میں خوراک کی کمی سے ان پر پڑنے والے اثرات ہر طرف دیکھے جا سکتے ہیں۔

یہ وہ وقت ہوتا ہے جو بچے کی مستقبل کی صحت، سکول میں تعلیم حاصل کرنے کی صلاحیت اور کے مستقبل کے روزگار کے بارے میں راہ متعین کرتا ہے۔

فوٹو گرافروں اور تحقیق کاروں کے ایک گروپ نے یو بیلانگ نامی ادارے کے زیر اہتمام گھانا میں بچوں میں خوراک کی کمی سے حوالے سے پڑنے والے اثرات پر کو اجگار کرنے کی کوشش کی ہے۔

نانا آگایا کاوؤ

Nana Agya Kwao stands in a field تصویر کے کاپی رائٹ UBELONG/ Nick Parisse

پچھترسالہ نانا پچھلے 35 برسوں سے بینٹم گاؤں کے کاشتکاروں کے رہنما ہیں۔ نانا نے دو سال قبل اپنی تمام زرعی زمین ایک ہاؤسنگ سوسائٹی ڈویلپر کو بیچ دی ہے جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کی اکثریت اپنے ذریعہ آمدن سے محروم ہو چکی ہے اور انھیں اپنے خاندانوں کی خوراک کی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

The discarded signs previously used to identify farm boundaries in the farming village of Bentum تصویر کے کاپی رائٹ UBELONG/Richard Lum

نانا کہتے ہیں 'مجھے بینٹم کا چیف ہونے پرفخر ہے۔ یہ آسان کام نہیں ہے۔ کوئی آپ کی زمین نہیں لے گا۔ مجھے معلوم ہے کہ بینٹم کے لوگ اب کاشتکاری نہیں کر سکتے لیکن آپ زندہ رہنے کے لیے کیا کرتے ہیں یہ آپ پر منحصر ہے۔

کیٹ افول

Kate Afful talks while at home with her mother تصویر کے کاپی رائٹ UBELONG/ Nick Parisse

کیٹ افولو اپنی بوڑھی ماں کی موجودگی میں بتاتی ہیں کہ کس طرح اس کی دو سالہ بچی زندگی کی جنگ ہار گئی تھی۔ جب سے کیٹ افولو کے شوہر کا قریباً ایک عشرہ پہلے انتقال ہوگیا اسے اپنے چار بچوں کو پالنے کے لیے کام ڈھونڈنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ کیٹ کے بچے غدائیت کی کمی کا شکار ہیں اور ان کے پاس کھانے کے لیے مکئی اور کساوا سے بنی ہوئی ڈش بانکو کھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔

’خدا نے میری دو سالہ بیٹی کو مجھ سے چھین لیا۔ اس کی صحت خراب تھی، میں نے اسے بستر میں ڈال دیا، اسی شام کو ایک سخت طوفان آیا۔ آسمان غصے سے گرج رہا تھا۔ میں نے بادلوں میں ایک زوردار دھماکے کی آواز سنی، جب میں بستر میں پڑی اپنی بچی کو دیکھنےکے لیے گئی تو وہ مر چکی تھی۔ مجھے یقین ہے کہ اس گرج نے میری بچی کو مار دیا۔‘

حنا ابیخا

Hannah Abekah prays in front of the yellow buckets of rainwater she has collected تصویر کے کاپی رائٹ UBELONG/ Adam Walker

30 سالہ حنا ابیخا کے ہرطرف رزد رنگ کی پانی سے بھری بالٹیاں ہیں جو انھوں نے ایک رات پہلے بارش کے پانی سےبھری تھیں۔ حنا ابیخا کبھی سکول نہیں گئیں اور کم عمری میں کام شروع کر دیا۔ وہ اب ایک مچھیرے کی بیوی ہیں جسے کئی ہفتوں تک اپنے گھر دور رہنا پڑتا ہے۔ وہ کہتی ہیں:’میرا کچن خالی ہے، میرے پاس کھانےکو کچھ نہیں۔ میرے بچے وہ کھانا بھی نہیں کھاتے جو تھوڑا بہت میں انھیں دیتی ہوں۔ مجھے غذائیت کی کمی کے بارے کچھ معلوم نہیں، بس میری دعا ہے کہ میرے بچے بڑے آدمی بنیں۔‘

ربیکا

Rebecca breastfeeds one of her two children inside her house تصویر کے کاپی رائٹ UBELONG/ Raul Roman

17 سالہ ربیکا کے بچوں کو ڈاکٹروں یا تربیت یافتہ ہیلتھ کیئر کے ماہرین تک رسائی حاصل نہیں ہے اور بیماری کی صورت میں مقامی دوکانوں سے دوائیاں حاصل کرتے ہیں۔ گاؤں میں اور کئی عورتوں کی طرح ربیکا کو اپنے بچوں کے باپ سے کوئی مدد نہیں ملتی ۔ وہ سمجھتی ہے کہ وہ کسی سے مدد حاصل نہیں کر سکتیں۔ وہ کہتی ہیں 'یہاں عورتیں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتیں'

بیٹرس ایمپونفی (دائیں) جوئے گلی (بائیں)

Beatrice Amponfi and Joy Glii sit inside their clinic next to a desk تصویر کے کاپی رائٹ UBELONG/ Joey Rosa

بیٹرس اور جوئے

بیٹرس اور جوئے غذائیت کی کمی کے یونٹ کی انچارج ہیں۔ چند نرسیں 30 ہزار نفوس پر مشتمل آبادی کی صحت کی محاظ ہیں۔ غذائی قلت کا سامنا کرنے والے بچوں میں سے صرف 20 فیصد بچوں کو ہی اس کلنک میں لایا جاتا ہے۔

A clinic on the outskirts of Kasoa, Ghana. تصویر کے کاپی رائٹ UBELONG/Nick Parisse

’غذائی قلت کا شکار بچوں کی مائیں اپنے بچوں کے مسائل کے بارے میں کھل کر بات نہیں کرتیں کیونکہ غذائی قلت بدنامی کا باعث ہے۔ ہم پڑوسیوں سے بات چیت کر کے غذائی قلت کا شکار بچوں کا پتا چلاتے ہیں تاکہ انھیں یہاں کلنک میں آنے میں شرمندگی کا نہ سامنا کرنا پڑے۔ لیکن ہماری یہ کوشش سمندر میں قطرے کے برابر ہے۔‘

کرسٹی اناش

Christy Ansah carries her youngest daughter next to a farm تصویر کے کاپی رائٹ UBELONG/ Nick Parisse

32 سالہ کرسٹی اناش اپنی بیٹی کے ساتھ اس کھیت کے پاس کھڑی ہیں جہاں وہ کبھی کام کرتی تھیں۔ اب اس زمین کو گاؤں کے سربراہ نانا آگایا کووؤ نے بیچ ڈالا ہے جس کے مطلب ہے کہ اب انھیں کام نہیں ملے گا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں اسی کھیت میں کام کر کے اپنے چار بچوں کو پال رہی تھی لیکن اب اس گاؤں میں نہ تو کوئی روزگار ہے اور نہ ہی خوراک۔ میں اس کا چوتھائی بھی نہیں کما پاتی جو میں پہلے کماتی تھی۔‘

میری ایسل

Mary Essil sits outside her home holding a bottle of glucose تصویر کے کاپی رائٹ UBELONG/ Nick Parisse

27 سالہ میری ایسل کلوکوز کی وہ بوتل اٹھائے بیٹھی ہیں جو ایک نرس نے اسے دی تھی۔ ایسل اپنے بچے کو اپنا دودھ نہیں پلا سکی کیونکہ وہ پیدائش کے وقت بہت کم وزن تھا۔ کلوکوز دیئے جانے کے باوجود ایسل کا بیٹا پیدائش کے چھ ہفتے کے اندر ہی فوت ہو گیا۔ مقامی روایت ہے کہ اگر کوئی بچہ غذائیت کی کمی کی وجہ سے ہلاک ہوا ہو تو اسے ماں باپ سے لے لیا جاتا ہے اور اس کے ماں باپ کو بچے کے جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں ہوتی۔

اس پراجیکٹ کا اہتمام واشنگٹن میں قائم یوبولانک نامی اداروں کے تعاون سے کیا گیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں