بیوی کا سیکس سے انکار نفسیاتی تشدد ہے: ملائشین سیاست دان

عورت تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ملائشیا کے ایک قانون ساز پر یہ کہنے کی وجہ سے تنقید کی جا رہی ہے کہ بیوی کا شوہر کو سیکس سے انکار ایک قسم کا 'نفسیاتی اور جذباتی تشدد' ہے۔

حکمران دھڑے سے تعلق رکھنے والے چے محمد ذوالکفلی جوسوہ ایک پارلیمانی اجلاس کے دوران گھریلو تشدد کے بارے میں بات کر رہے تھے۔

ملائشیا گھریلو تشدد کے خلاف قانون سازی کر رہا ہے۔

58 سالہ ذوالکفلی نے کہا کہ مرد جسمانی کی بجائے جذباتی تشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔

’کہا جاتا ہے کہ مرد جسمانی طور پر عورتوں سے زیادہ طاقتور ہیں، لیکن ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ جہاں بیوی اپنے خاوند کو سخت چوٹ لگاتی ہے۔ عام طور پر بیویاں اپنے خاوندوں سے گالم گلوچ کرتی ہیں۔ یہ جذباتی تشدد ہے۔ وہ اپنے خاوند کی توہین کرتی ہیں اور اس کی جنسی ضرورت پوری نہیں کرتیں۔ یہ سب نفسیاتی اور جذباتی تشدد کی مثالیں ہیں۔‘

ذوالکفلی نے یہ بیان پارلیمان میں گھریلو تشدد پر ہونے والی بحث کے دوران دیا۔

ملائشیا میں مرد شرعی عدالت سے اجازت لے کر چار بیویاں رکھ سکتے ہیں۔

اس پر ذوالکفلی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

خواتین کے حقوق کی کارکن مرینا مہاتیر نے، جو سابق صدر مہاتیر محمد کی صاحبزادی ہیں، خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ 'یہ پرانی روایت ہے کہ اگر آپ نے ایک عورت سے شادی کی ہے تو آپ اس کے جسم کے مالک ہیں۔ عورتوں کو یہ حق ہے کہ وہ سیکس سے انکار کر سکیں۔ یہ کہنا مضحکہ خیز ہے کہ ایسا کرنے سے مردوں کے ساتھ بدسلوکی ہوتی ہے۔'

مرینا نے فیس بک پر لکھا: ’اور پھر بھی ہم مردوں کو ملکوں پر حکومت کرنے دیتے ہیں؟‘

کئی لوگوں نے سوشل میڈیا پر اس بیان پر تنقید کی ہے۔ شارکاوی لو نے لکھا: ’سیاست دان پہلے سماجی مسائل اور بدعنوانی حل کرنے کی کوشش کریں، سیکس تھیراپی کے ماہرین بعد میں بنیں۔‘

گوپناتان ماداون نے کہا: ’عورتیں جنسی کھلونے نہیں ہیں۔ آپ کو اس کے جذبات کا احترام کرنا چاہیے۔‘

ریچل خو نے لکھا: ’ہم ایسے غیرمہذب لوگوں کو اپنی نمائندگی کیوں کرنے دیتے ہیں؟‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں