تلاشی کا متنازع نظام ختم، فلسطینی حرم الشریف میں دوبارہ داخل

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسرائیل کی جانب سے متنازع سکیورٹی آلات ہٹائے جانے کے بعد فلسطینی شہری ایک بار پھر مسلمانوں اور یہودیوں کے مشترکہ مقدس مقام 'حرم الشریف' میں داخل ہو رہے ہیں۔

دو ہفتوں تک بائیکاٹ اور احتجاج کے بعد عبادت کرنے کے لیے فلسطینی شہری وہاں جمع ہیں۔

خیال رہے کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے یہ اقدامات چند روز قبل دو اسرائیلی پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد کیے گئے تھے۔

فلسطینیوں کی جانب سے سکیورٹی کے نظام پر شدید تنقید کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ یہ اسرائیل کی طرف سے حرم الشریف جسے ٹیمپل ماؤنٹ کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔

آخری رکاوٹیں ہٹائے جانے کے بعد فلسطینی جمعرات کی دوپہر کو عبادت کے لیے وہاں داخل ہونے سے قبل نعرے لگا رہے تھے اور خوشی سے رقص کر رہے تھے۔

حرم الشریف کے باہر سے جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں یہ اس وقت ہوا جب پولیس نے ہجوم کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی اور آنسو گیس استعمال کی۔

فلسطینی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کا کہنا ہے کہ جھڑپوں میں درجنوں افراد زخمی ہوئے۔

اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے یہ کارروائی اس وقت کی جب ان پر ہجوم کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ فلسطیی حکام نے گذشتہ ہفتے اسرائیل کے ساتھ اس وقت تک ہر قسم کا تعاون ختم کرنے کا اعلان کیا تھا جب تک وہ نئے اقدامات کو منسوخ نہیں کر لیتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اس سلسلے میں امریکہ اور اردن نے سفارتی سطح پر اہم کردار ادا کیا۔

اسرائیل کی حکومت نے حرم الشریف میں داخل ہونے والوں کی چیکنگ کے لیے لگائے جانے والے آلات کو مکمل طور پر ہٹائے جانے کے فیصلے پر ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

اس صورتحال پر نظر رکھنے والے ماہرین کے خیال میں وزیراعظم بن یامین تین یاہو کو ایک ایسی کابینہ کے سامنے مشکل کا سامنا ہوگا جس میں اکثریت دائیں بازو کے حامی ہیں۔

وزیر تعلیم نیتلی بینیٹ کا کہنا ہے کہ اس بحرانسےاسرائیل کمزور ہو کر نکلا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ریڈیو سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ بجائے اس کے کہ اس کے ذریعے اسرائیل کی ٹیمپل ماؤنٹ پر خودمختاری کا پیغام دیتا اس نے یہ پیغام دیا ہے کہ اسرائیل کی خودمختاری پر سوال ہو سکتا ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں