ہیمبرگ کی سپر ماریکٹ میں حملہ کرنے والے شخص ’اسلام پسند‘ تھا

جرمنی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جرمنی میں حکام کا کہنا ہے کہ ہیمبرگ میں چاقو کی مدد سے ایک شخص کو ہلاک اور چھ کو زخمی کرنے والا حملہ آور' اسلام پسند تھا۔'

جرمنی کے شہر ہیمبرگ کے وزیر داخلہ اینڈی گروٹے کا کہنا ہے کہ حملہ آور اسلام پسند تھا تاہم جہادی خیالات نہیں رکھتا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ حملہ آور کو دماغ کے خلل کا عارضہ بھی لاحق تھا۔

٭جرمنی میں کرسمس مارکیٹ میں ہلاکتیں، تصاویر

٭ جرمنی میں مشتبہ شامی شدت پسند کی جیل میں خودکشی

٭ جرمنی بس دھماکہ: مشتبہ ’اسلامی شدت پسند‘ گرفتار

حکام کا کہنا ہے کہ جمعے کو سپر مارکیٹ میں حملہ کرنے والا شخص متحدہ عرب امارات میں پیدا ہوا تھا اور اس نے جرمنی میں پناہ کی درخواست دی تھی جسے مسترد کر دیا گیا تاہم شناختی دستاویزات نہ ہونے کی بنا پر ملک بدر نہیں کیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور کا تعلق کسی گروہ سے نہیں تھا اور ایک راہگیر نے حملہ آور کو دبوچ لیا تھا۔

وزیر داخلہ اینڈی گروٹےکا کہنا ہے کہ چھبیس سالہ حملہ آور کی شناخت احمد کے نام سے ہوئی ہے اور یہ متحدہ عرب امارات میں پیدا ہونے والی فلسطینی نژاد تھا اور کا نام اسلام پسندوں کی فہرست میں شامل تھا۔

ابھی تک حملے کے محرکات کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا تاہم پولیس نے ہیمبرگ میں پناہ گیزینوں کے اس مرکز کی تلاشی لی ہے جہاں حملہ آور رہائش پذیر تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تلاشی کے دوران شواہد نہیں ملے کہ اس کا تعلق کسی شدت پسندی تنظیم سے تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جمعے کو ہیمبرگ کے شمالی علاقے میں واقع سپر مارکیٹ میں حملہ آور داخل ہوا اور وہاں شیلف میں پڑا چاقو اٹھا کر اچانک پچاس سالہ شخص کو زخمی کر دیا جس کی بعد میں موت واقع ہو گئی۔

اس کے بعد حملہ آور دیگر دو افراد کو زخمی کرنے کے بعد سپر مارکیٹ سے نکل گیا۔

اس کے بعد ایک پچاس سالہ خاتون اور دو مردوں کو زخمی کیا جبکہ اس کو دبوچنے کی کوشش میں ایک 35 سالہ شخص بھی زخمی ہوا۔

اس شخص نے کرسی کو حفاظتی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہوئے حملہ آور کو روکا اور بعد میں دبوچ لیا۔

خیال رہے کہ جرمنی میں حالیہ مہینوں میں متعدد شدت پسند حملوں ہو چکے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں