آسٹریلیا کا طیارہ تباہ کرنے کا منصوبہ ناکام بنانے کا دعویٰ

آسٹریلین پولیس تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس کا کہنا ہے کہ سڈنی کے مضافات سرے ہلز میں کم از کم ایک جگہ چھاپا مارا گيا ہے

آسٹریلیا میں حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک طیارے کو دھماکے سے اڑانے کے منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے، جس کے بعد ہوائی اڈوں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

بعض ہوائی اڈوں پر لمبی قطاریں نظر آ رہی ہیں اور مسافروں کو ممکنہ تاخیر کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم میلکم ٹرنبل نے اس منصوبے کو 'بڑی سازش' قرار دیا ہے۔

٭ گرفتار نوجوان ’دہشت گردی‘ کا منصوبہ بنائے ہوئے تھے

٭ آسٹریلیا کی تاریخ میں منشیات برآمدگی کا سب سے بڑا واقعہ

سڈنی میں متعدد گھروں میں کیے جانے والے چھاپوں کے دوران چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جہاں سے ایسا مواد برآمد کیا گیا جس سے پولیس کے مطابق بم بنائے جا سکتے تھے۔

آسٹریلیا کے وفاقی پولیس کمشنر اینڈریو کولن نے اس منصوبہ کو 'اسلام سے تحریک پانے والی دہشت گردی' کہا ہے۔

جبکہ میلکم ٹرنبل نے چھاپوں کو 'اہم مشترکہ انسداد دہشت گردی آپریشن' کہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پولیس نے چھاپوں کے بعد کئی جگہ راستے بند کر دیے

آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن (اے بی سی) کی رپورٹ کے مطابق یہ چھاپے سڈنی کے مضافات سرے ہلز، لیکمبا، ویلی پارک اور پنچ بول میں مارے گئے ہیں۔

آسٹریلیا میں دہشت گردی کے خطرے کو 'ممکنہ' کی سطح پر رکھا گیا ہے۔

انھوں نے نیوز کانفرنس کو بتایا: 'حالیہ دنوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ خبر ملی تھی کہ سڈنی میں دہشت گردانہ حملے کی تیاری کی جا رہی ہے جس میں گھریلو ساخت کے دھماکہ خیز طریقے کا استعمال کیا جائے گا۔'

انھوں نے کہا کہ پولیس کو ان اطلاعات کی تفصیلات نہیں ہیں کہ 'یہ کہاں اور کب' ہونا تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس کے متعلق جانچ لمبی تفتیش ہو گی۔

اے بی سی نے بتایا کہ سرے ہلز کی ایک خاتون جس کے شوہر اور بیٹے کو گرفتار کیا گیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ان کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں