ہونولولو میں سڑک پار کرتے وقت موبائل فون کے استعمال پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکہ میں سنہ 2000 کے بعد سے موبائل فون کے استعمال کی وجہ سے سڑکوں پر ہزاروں حادثات پیش آ چکے ہیں

امریکی شہر ہونولولو نے سڑک پار کرنے کے دوران موبائل فون کو دیکھنے، ٹیکسٹ کرنے یا دیگر ڈیجیٹل آلات استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

ہونولول امریکہ کا پہلا بڑا شہر ہے جہاں پر راہگیروں پر اس قسم کی پابندی عائد کی گئی ہے۔

ہوائی کے سب سے بڑے شہر ہونولولو میں اس پابندی کا اطلاق اکتوبر سے ہو گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ موبائل یا دیگر ڈیجیٹل آلات کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کا دیہان سڑک پر نہیں ہوتا جس کے نتیجے میں حادثات ہوتے ہیں۔

سیلفی لیتے ہوئے ٹرین کی زد میں آکر دو نوجوان ہلاک

روسی لڑکی سیلفی لینے کی کوشش میں ہلاک

حکام کا کہنا ہے کہ اپنے ڈیجیٹل آلات بشمول لیپ ٹاپ اور ڈیجیٹل کیمرے کو استعمال کرتے ہوئے سڑک پار کرنے کی کوشش میں پہلی بار پکڑے جانے پر 15 سے 35 ڈالر جرمانہ ہو گا۔

تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی سروسز سے رابطہ کرنے کے لیے آلات کا استعمال کرنے کی صورت میں اس پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔

اس بل کو ہونولولو کی کونسل نے دو کے مقابلے میں سات ووٹوں سے منظور کیا اور شہر کے میئر کرک کولڈول نے دستخط کیے۔

اس قانون کا اطلاق 25 اکتوبر سے ہو گا۔ اس قانون کو Distracted Walking Law یعنی بے دیہانی میں چلنے کا قانون کے نام سے جانا جائے گا۔

اس قانون کے تحت 'کوئی راہ گیر اپنے موبائل الیکٹرونک آلے کی طرف دیکھتے ہوئے سڑک یا ہائی وے پار نہیں کرے گا'۔

قانون کے تحت دوسری بار ایسی حرکت کرنے پر پکڑے جانے پر 99 ڈالر کا جرمانہ عائد ہو گا۔

اس قانون کی مخالفت بھی ہوئی ہے اور لوگوں نے حکومت پر بیجا قوانین بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔

ہونولول کے میئر کرک کولڈول نے برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا 'بدقسمتی سے ہونولولو میں سڑک پار کرتے وقت حادثات کا شکار ہونے کی شرح پورے امریکہ میں سب سے زیادہ ہے۔'

انھوں نے مزید کہا کہ کبھی تو وہ خواہش کرتے ہیں کہ ایسے قوانین انہیں لاگو نہ کرنے پڑتے اور کاش کہ لوگ عقل سے کام لیں لیکن کبھی کبھار عقل کام نہیں کرتی۔

امریکی نیشنل سیفٹی کونسل کے مطابق سنہ 2000 سے 2011 تک امریکہ میں موبائل فونز استعمال کرتے ہوئے بے دیہانی میں سڑک پار کرنے میں 11 ہزار ایک سو لوگ زخمی ہوئے۔

سیفٹی کونسل کی تازہ رپورٹ میں تازہ اعداد و شمار نہیں دیے گئے تاہم کہا جا رہا ہے کہ اس قسم کے حادثات کی شرح بہت زیادہ ہو گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں