وائٹ ہاؤس کے افسرِ رابطہ دس دن کے اندر اندر برطرف

سکاراموچی تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER - @SCARAMUCCI

وائٹ ہاؤس کے افسرِ رابطہ اینتھنی سکاراموچی کو اپنے عہدے پر تعینات ہونے کے صرف دس دن کے اندر اندر برطرف کر دیا گیا ہے۔

سکاراموچی وال سٹریٹ کے سابق ماہرِ مالیات ہیں۔ انھیں اس وقت شدید تنقید کا نشانہ بننا پڑا جب انھوں نے ایک رپورٹر سے فون پر بات کرتے ہوئے اپنے رفقائے کار کے بارے میں گالیوں بھری زبان استعمال کی۔

صدر ٹرمپ کے چیف آف سٹاف رائنس پریبس اور ترجمان شان سپائسر دونوں نے سکاراموچی کی تعیناتی کے بعد اپنے عہدے چھوڑ دیے تھے۔

پیر کے روز چیف آف سٹاف جان کیلی نے سکاراموچی کو برطرف کیا۔

وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ بھی سکاراموچی کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے۔

ٹرمپ کی ترجمان سارا سینڈرز نے کہا کہ صدر کے خیال میں سکاراموچی نے رپورٹر کے ساتھ 'جو زبان استعمال کی وہ اس عہدے پر کام کرنے والے کسی شخص کے شایانِ شان نہیں تھی۔'

صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے کہا کہ وائٹ ہاؤس میں کوئی انتشار نہیں ہے۔ وہ ان رپورٹوں کی طرف اشارہ کر رہے تھے کہ وائٹ ہاؤس کا عملہ ایک دوسرے سے لڑتا رہتا ہے۔

سکاراموچی نے ڈینگ ماری تھی کہ وہ چیف آف سٹاف کی بجائے براہِ راست صدر کو رپورٹ کرتے ہیں۔

رائنس پریبس نے جمعے کو استعفیٰ دے دیا تھا۔اس سے قبل سکاراموچی نے ان کے بارے ایک ٹویٹ کر کے پھر اسے حذف کر دیا تھا۔ اس ٹویٹ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس میں سکاراموچی نے پریبس کو دھمکی دی تھی۔

سکاراموچی نے ایک رپورٹر سے کہا تھا کہ وہ پریبس کو 'جنونی اور شیزوفرینیا کا مریض' قرار دیں اور ان پر الزام لگائیں کہ وہ میڈیا کو معلومات لیک کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ انھوں نے ایک فون کال میں چیف سٹریٹیجسٹ سٹیو بینن کے بارے میں غلیظ زبان استعمال کی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں