ٹرمپ نے اپنے بیٹے کے بارے میں بیان خود ڈکٹیٹ کروایا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے صدارتی انتخاب کی مہم کے دوران ذاتی طور پر وہ بیان لکھوایا تھا جو ان کے بیٹے نے روسی وکیل کے ساتھ ملاقات کے بارے میں دیا تھا۔

بیان کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر روسی وکیل نے جون سنہ 2016 میں زیادہ تر روسی بچوں کو گود میں لینے کے بارے میں بات چیت کی۔

وائٹ ہاؤس کے افسرِ رابطہ دس دن کے اندر اندر برطرف

'ٹرمپ کو اپنے بیٹے کی روسی وکیل سے ملاقات کا علم نہیں تھا'

ہلیری کے حوالے سے 'حساس' معلومات کی پیشکش: ٹرمپ جونیئر

'جیرڈ کشنر نے بات چیت کی خفیہ لائن قائم کرنے کی بات کی تھی'

ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے بعد میں انکشاف کیا کہ وہ روسی وکیل کے ساتھ ملاقات کے لیے اس وقت راضی ہوئے جب انھیں بتایا گیا کہ وہ ان سے ہیلری کلنٹن کو نقصان پہنچانے والا مواد حاصل کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ روس کی امریکہ کے صدارتی انتخاب میں مبینہ مداخلت کے الزامات کو مسترد کرتے آئے ہیں۔

امریکی سینیٹ، ایوانِ نمائنیدگان اور ایک خاص کونسل امریکہ کے صدارتی انتخاب کی مہم میں مبینہ روسی مداخلت کی تفتیش کر رہے ہیں جس کی کریملن تردید کرتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کا بیان آنے کے بعد وائٹ ہاؤس میں مزید افراتفری دیکھنے میں آئی اور وائٹ ہاؤس کے افسرِ رابطہ اینتھنی سکاراموچی کو اپنے عہدے پر تعینات ہونے کے صرف دس دن کے اندر اندر برطرف کر دیا گیا ہے۔

سکاراموچی وال سٹریٹ کے سابق ماہرِ مالیات ہیں۔ انھیں اس وقت شدید تنقید کا نشانہ بننا پڑا جب انھوں نے ایک رپورٹر سے فون پر بات کرتے ہوئے اپنے رفقائے کار کے بارے میں گالیوں بھری زبان استعمال کی۔

اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ نے ذاتی طور پر وہ بیان لکھوایا تھا جو ان کے بیٹے نے روسی وکیل کے ساتھ ملاقات کے بارے میں دیا۔

صدر ٹرمپ کے چیف آف سٹاف رائنس پریبس اور ترجمان شان سپائسر دونوں نے سکاراموچی کی تعیناتی کے بعد اپنے عہدے چھوڑ دیے تھے۔

وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ بھی سکاراموچی کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے۔

ٹرمپ کی ترجمان سارا سینڈرز نے کہا کہ صدر کے خیال میں سکاراموچی نے رپورٹر کے ساتھ 'جو زبان استعمال کی وہ اس عہدے پر کام کرنے والے کسی شخص کے شایانِ شان نہیں تھی۔'

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر، ان کے بہنوئی جیرڈ کشنر اور ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے سربراہ پال مینفرٹ نے روسی وکیل نٹالیا ویسلنیتسکایا سے نیویارک میں واقع ٹرمپ ٹاور میں جون سنہ 2016 میں ملاقات کی تھی۔

ٹرمپ جونيئر کو برطانوی پبلسسٹ راب گولڈسٹون کی جانب سے ایک ای میل آئی تھی جس میں یہ کہا گيا تھا کہ بعض ایسے روسی دستاویزات ہیں جو کہ ہلیری کلنٹن کو مجرم ثابت کر دیں گے۔

لیکن ٹرمپ جونیئر کا کہنا ہے کہ اس خاتون نے انھیں کام کی کوئی چیز نہیں دی اور یہ کہ میٹنگ صرف 20 منٹ جاری رہی۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیٹے کی حمایت میں ایک مختصر بیان جاری کیا جس میں انھیں 'اعلیٰ صلاحیت کا شخص' قرار دیا اور ان کی شفافیت کی تعریف کی۔

اسی بارے میں