سعودی عرب کے ساحلوں پر لگژری سیرگاہیں

سعودی عرب تصویر کے کاپی رائٹ KINGDOM OF SAUDI ARABIA

سعو دی عرب نے سیاحوں کے لیے ایک بڑے پروجیکٹ کا آغاز کیا ہے جس کے نتیجے میں بحرِ احمر کے ساتھ موجود 50 جزیرے لگژری سیرگاہوں میں بدل جائیں گے۔

امید کی جا رہی ہے کہ اس سے غیر ملکی سیاح اور مقامی افراد کو متوجہ کرنے کے ساتھ ساتھ سعودی معیشت کو فروغ دینے میں بھی مدد ملے گی۔

* ساحل مالابار کے ذائقے اور عرب

غیر ملکیوں کو ویزا صرف سیاحتی علاقے کے لیے جاری کیا جائے گا۔

تاہم ابھی یہ معلوم نہیں ہے کہ سعودی عرب جیسے قدامت معاشرے میں اس سیاحتی مقام پر لباس کے معاملے میں نرمی برتی جائے گی یا نہیں۔

یاد رہے کہ سعودی عرب میں شراب، سینیما گھر اور تھیئٹرز ممنوعات میں شامل ہیں۔

خواتین کے لیے لازم ہے کہ وہ عوامی مقامات پر عبایا پہنیں اور سر ڈھکیں۔

اس کے علاوہ وہ ڈرائیونگ کر سکتی ہیں اور نہ ہی عام طور پر اپنے محرم کی اجازت کے بغیر تعلیم کے لیے جا سکتی ہیں یا بیرون ملک سفر کر سکتی ہیں۔

ان نئے سیاحتی مقامات کی تعمیر کا آغاز سنہ 2019 میں ہو گا۔

پہلے مرحلے میں نئے ایئر پورٹس، لگژری ہوٹلز اور رہائش کے لیے مکانات تعمیر کیے جائیں گے اور توقع ہے کہ یہ مرحلہ 2022 تک پایہ تکمیل تک پہچ جائے گا۔

سعودی عرب میں پہلے ہی وہاں نوکری کی غرض سے جانے والے لاکھوں غیر ملکیوں اور حج کے لیے آنے والے عازمین کی میزبانی کرتا ہے۔

تاہم اب تک سعودی عرب کے سخت سماجی نظریات کی وجہ سے یہاں سیاحوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ایسے اقدامات بھی نہیں کیے گئے۔

اس پروجیکٹ کا نام وژن 2030 ہے جس کی نگرانی شہزادہ محمد بن سلمان کر رہے ہیں۔

وژن 2030 کے مطابق یہ پروجیکٹ سعودی عرب کے مغرب کی ساحلی پٹی پر بحر ہند میں 125 میل کے علاقے تک بنایا جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں