اردن: ریپ کے قانون میں سقم کے خلاف ووٹنگ

اردن تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اردن کا شمار اس خطے کے ان گنے چنے ملکوں میں ہوتا ہے جہاں ریپ کے قانون میں اس قسم کا سقم اب بھی موجود ہے

اردن کے قانون سازوں نے ایک ایسے قانون کو ختم کرنے کی منظوری دی ہے جس کے تحت اگر ریپ کرنے والا متاثرہ خاتون سے شادی کر لے تو وہ سزا سے بچ جاتا تھا۔

ایوانِ زیریں نے آرٹیکل 308 کہلائے جانے والے اس قانون کو ختم کرنے کے لیے ووٹ ڈالے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا ایک عرصے سے مطالبہ تھا کہ اس شق کو ختم کر دیا جائے، البتہ اس کے حامیوں کا موقف تھا کہ اس کے تحت شکار بننے والی عورتوں کو سماجی کلنک بننے سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

ابھی اس فیصلے کو ایوانِ بالا سے منظوری ملنا باقی ہے جس کے بعد شاہ اس پر دستخط کر کے اسے عملی قانون بنا دیں گے۔

اردن کا شمار اس خطے کے ان گنے چنے ملکوں میں ہوتا ہے جہاں ریپ کے قانون میں اس قسم کا سقم اب بھی موجود ہے۔ گذشتہ ہفتے تیونس نے اسی قسم کا قانون ختم کر دیا تھا، جب کہ لبنان میں اس پر غور ہو رہا ہے۔

اردن مغرب پسند مگر سماجی طور پر قدامت پرست ملک ہے۔ وہاں انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے۔ 'اردن کے قومی کمیشن برائے خواتین کی سلمیٰ نمس نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ 'یہ اردن میں خواتین کے حقوق اور انسانی حقوق کی تحریک کی فتح ہے۔‘

آرٹیکل 308 کے تحت اگر ریپ کرنے والا ریپ ہونے والی خاتون سے شادی کر لے اور تین برس تک اسے طلاق نہ دے تو اس پر سے ریپ کے الزامات خارج کر دیے جاتے تھے۔

بعض قانون ساز اس قانون کو مخصوص حالات میں برقرار رکھنا چاہتے تھے، مثلاً جہاں ملزم پر 15 سے 17 برس کی عمر میں مرضی سے سیکس کرنے کا الزام ہو۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اس خطے کے وہ ملک جہاں اب بھی یہ قانون موجود ہے ان میں الجیریا، عراق، کویت، لیبیا اور شام شامل ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں