جنوبی افریقہ میں گاڑی چوری کرنے کے لیے گدھوں کا استعمال

جنوبی افریقہ پولیس سروس تصویر کے کاپی رائٹ SOUTH AFRICAN POLICE SERVICE
Image caption گاڑی میں نصب ٹریکنگ آلہ صرف اسی صورت میں کام کرتا ہے اگر سٹارٹ کی جائے، اس لیے گدھوں کی مدد سے گاڑی کو سرحد پار پہنچایا جاتا ہے

جنوبی افریقہ میں پولیس نے ایک چوری شدہ لگژری کار کو گدھوں کی مدد سے دریا کے پار کھینچ کر زمبابوے سمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ افراد چوری شدہ کار کو سمگل کرنے کی کوشش میں ناکامی کے بعد زمبابوے کی جانب فرار ہو گئے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال دسمبر میں ڈربن سے چوری ہونے والی ایک کار بھی اسی دریا سے ملی تھی جسے گدھوں کی مدد سے دریا کے پار کھینچا گیا تھا۔

مقامی پولیس اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ اس نئے طریقے کے پیچھے کون سا مجرمانہ گروہ کام کر رہا ہے؟

پولیس بریگیڈیئر موجاپیلو کا کہنا ہے کہ مرسیڈیز بینز سی 220 گاڑی کو دریائے لمپوپو سے برآمد کیا گیا۔

مقامی ذرائع ابلاغ نے موجاپیلو کے حوالے سے بتایا کہ مشتبہ افراد دریا سے گاڑی کو نکالنے کے لیے گدھوں کا استعمال کر رہے تھے لیکن ہمارے اراکین نے عین اس وقت ان پر قابو پایا جب بظاہر گدھے ریت کے ذریعہ گاڑی کو نکالنے کے قابل نہ رہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس عمل کے دوران گدھوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ چوروں نے گاڑی کو چلا کر زمبابوے کیوں نہیں پہنچایا جس کی ایک وجہ بظاہر یہ ہو سکتی ہے کہ جدید گاڑیوں میں زیادہ تر ٹریکنگ آلہ نصب ہوتا ہے اور اگر اسے چوری کر لیا جائے تو سیٹلائیٹ کی مدد سے اس کا پتہ لگا لیا جاتا ہے۔

جدید گاڑیوں میں نصب ٹریکنگ آلہ اسی صورت میں ایکٹو ہوتا ہے جب گاڑی چلتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں