امریکہ نے پابندیاں لگا کر تجارتی جنگ کا اعلان کیا ہے: روس

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی انتخاب میں مبینہ مداخلت کرنے پر روس کے خلاف پابندیوں کے بل پر دستخط کر کے اس کو قانون کی شکل دے دی ہے۔

اس بل پر صدر نے وائٹ ہاؤس میں دستخط کیے۔ اس نئے قانون کے تحت ایران اور شمالی کوریا پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

صدر نے کانگریس پر اس بل کو منظور کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

صدر ٹرمپ کے دستخط کیے جانے کے بعد روسی وزیر اعظم دیمیتری میودیو نے کہا کہ اس بل کو قانون کی شکل دینے کا مطلب ہے کہ امریکہ نے روس کے خلاف 'مکمل تجارتی جنگ' کا اعلان کر دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پابندیوں کے باعث نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے کی امیدیں ختم ہو گئی ہیں۔

دوست جانب ایران نے ان پابندیوں کے بارے میں کہا ہے کہ نئی پابندیاں ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور تہران اس کا موزوں جواب دے گا۔

واضح رہے کہ امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تنقید کے باوجود روس پر نئی پابندیاں لگانے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

روس کی امریکی انتخاب میں مبینہ مداخلت کے معاملے میں تحقیقات جاری ہیں اور اسی تناظر میں امریکی صدر نے ملک کے اٹارنی جنرل جیف سیشنز پر دباؤ بھی بڑھا دیا ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان کی بھاری اکثریت نے ان اقدامات کی حمایت کی جس کے ذریعے شمالی کوریا اور ایران پر بیلیسٹک میزائل کے تجربے کی وجہ سے پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ان نئی پابنیوں کی وجہ سے روس کے تیل اور گیس کے پراجیکٹس پر اثر پڑے گا۔

یاد رہے کہ گذشتہ دسمبر میں اس وقت کے صدر براک اوباما نے الیکشن ہیکنگ کے حوالے سے 35 روسی سفارتکاروں کو ملک چھوڑ دینے کا حکم دیا تھا اور دو روسی کمپاؤنڈ بند کر دیے گئے تھے۔

روس امریکی انتخاب میں مداخلت کے الزام کر مسترد کرتا آیا ہے۔

روس نے مطالبہ کیا تھا کہ امریکہ قبضے میں لیے گئے دونوں کمپاؤنڈ کو روس کے حوالے کرے اور اگر ایسا نہیں کیا گیا تو روس جوابی کارروائی کرے گا۔

گذشتہ دنوں اعلیٰ سطح کی بات چیت کے بعد ایک روسی اہلکار نے کہا تھا کہ کمپاؤنڈ کا مسئلہ تقریباً حل ہو گیا ہے۔

تاہم اس نئے بل کے تحت صدر ٹرمپ پابندیوں میں تبدیلی یا سفارتی جائیداد کی واپسی کانگریس کی منظوری کے بغیر نہیں کر سکتے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں