سعودی عرب کو حج سے کتنی آمدن ہوتی ہے؟

حج تصویر کے کاپی رائٹ AHMAD GHARABLI/AFP/Getty Images
Image caption حج سے ہونے والی آمدنی سے سعودی معیشت کو بڑا سہارا

دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان ہر برس حج کرنے سعودی عرب آتے ہیں جس سے سعودی معیشت کو خاصی تقویت ملتی ہے۔

تاہم بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ حج اور عمرہ کرنے کے لیے آنے والے عازمین سے سعودی عرب کو کتنی آمدنی ہوتی ہے اور سعودی عرب کی معیشت میں اس کا کتنا حصہ ہے۔

اس کے لیے سب سے پہلے تو حج کے ارادے سے سعودی عرب جانے والے مسلمانوں کی کل تعداد نکالنی ہو گی۔

ہر برس کتنے لوگ مکہ جاتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AMER HILABI/AFP/Getty Images
Image caption لوگ عمرہ کے لیے پورا سال سعودی عرب پہنچتے رہتے ہیں

گذشتہ برس مجموعی طور پر 83 لاکھ لوگ حج کے لیے سعودی عرب آئے تھے۔

ایک تو یہ کہ سال کے ایک خاص وقت میں ہی حج کیا جاتا ہے اور دوسری بات یہ کہ سعودی عرب نے حج کے لیے آنے والوں کی تعداد کو قابو میں رکھنے کے لیے ہر ملک کا ایک کوٹا طے کر رکھا ہے۔

حج کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد سعودی عرب میں رہنے والے لوگوں کی بھی ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان میں سے بہت سے لوگ مختلف ممالک کے شہری ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ FAZRY ISMAIL
Image caption گذشتہ سال 60 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے عمرہ ادا کیا

گذشتہ دس سالوں میں سعودی عرب کے اندر سے حج کرنے والے مسلمانوں کی تعداد دوسرے ممالک سے آنے والے حجاج کرام کے مقابلے میں تقریبا نصف رہی ہے۔

دنیا بھر میں مسلمانوں کی جتنی آبادی ہے، اس کی محض دو فیصد آبادی ہی سعودی عرب میں رہتی ہے۔

مسلمان پورے سال عمرہ کے لیے جاتے رہتے ہیں۔ پچھلے سال 60 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے عمرہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ RYAD KRAMDI/AFP/Getty Images
Image caption گذشتہ سال سعودی عرب کو حج سے 12 ارب ڈالر کی براہ راست آمدنی ہوئی

حاجیوں کے اخراجات

سعودی عرب جانے والے مسلمانوں میں 80 فیصد سے زیادہ لوگ وہاں عمرہ کرنے جاتے ہیں۔ سات سال پہلے عمرہ جانے والوں کی تعداد 40 لاکھ تھی اور سعودی عرب کو امید ہے کہ آنے والے چار سالوں میں یہ تعداد ایک کروڑ 20 لاکھ ہو جائے گی۔

گذشتہ سال سعودی عرب کو حج سے 12 ارب ڈالر کی براہ راست آمدنی ہوئی۔ پاکستانی کرنسی میں یہ رقم 1264 ارب روپے سے زیادہ بنتی ہے۔ سعودی عرب جانے والے حجاج کرام نے وہاں جا کر تقریباً 23 ارب ڈالر کی رقم خرچ کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ SAJJAD HUSSAIN/AFP/Getty Images
Image caption مختلف ممالک کے لوگوں کے لیے حج کا خرچ مختلف ہوتا ہے

حج کے لیے سعودی جانے والے مسلمان جو ڈالر وہاں خرچ کرتے ہیں، وہ ان کی معیشت کا حصہ بن جاتا ہے۔

یہ تمام رقم سعودی عرب کی براہِ راست آمدنی نہیں ہے لیکن اس سے ان کی معیشت کو بہت بڑا سہارا ملتا ہے۔

مکہ چیمبر اور کامرس کے اندازے کے مطابق بیرونی ملک سے آنے والے مسلمانوں کو حج پر4600 ڈالر خرچ کرنے پڑتے ہیں جبکہ سعودی عرب کے حجاج کرام کے حج میں 1500 ڈالر لگتے ہیں۔

مختلف ممالک کے لوگوں کے لیے حج کا خرچ مختلف ہوتا ہے۔ ایران سے آنے والے قافلے میں ہر ایک شخص پر یہ خرچ 3000 ڈالر کے قریب پڑتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AHMAD GHARABLI/AFP/Getty Images
Image caption سعودی عرب کی کوشش ہے کہ تیل کے علاوہ آمدن کے دوسرے ذرائع تلاش کیے جائیں

اس میں سفر، کھانے پینے اور خریداری کا بجٹ شامل ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں کو بھی تقریباً اتنا ہی خرچ کرنا پڑتا ہے۔

ایک ایرانی حاجی نے بی بی سی کی فارسی سروس کو نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس بار حج کا ان کا بجٹ 8000 امریکی ڈالر کا ہے۔

اس میں ان کے بہت سے ذاتی اخراجات بھی شامل ہیں لیکن پھر بھی یہ پیسہ کسی نہ کسی طرح سعودی عرب کی معیشت کا حصہ بن جاتا ہے۔

انڈونیشیا کا کوٹا سب سے زیادہ ہے۔ یہاں سے ہر سال دو لاکھ 20 ہزار لوگ حج کے لیے سعودی عرب جا سکتے ہیں، جو حجاج اکرام کا 14 فیصد ہے۔ اس کے بعد پاکستان 11 فیصد، بھارت 11 فیصد اور بنگلہ دیش کا کوٹا آٹھ فیصد ہے. اس فہرست میں نائیجیریا، ایران، ترکی، مصر جیسے ملک بھی شامل ہیں.

تصویر کے کاپی رائٹ AHMAD GHARABLI/AFP/Getty Images
Image caption سعودی عرب مذہبی سیاحت سے ہونے والی آمدنی پر توجہ دے رہا ہے

حج سے زیادہ تیل سے پیسہ

خام تیل کی فروخت سے ہونے والی آمدنی کے لحاظ سے دیکھیں تو سعودی عرب کو حج سے زیادہ آمدنی نہیں ہوتی لیکن اس کی کوشش ہے کہ تیل کے علاوہ ہونے والی آمدنی کا ذریعہ بڑھایا جائے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا اندازہ ہے کہ تیل کی پیداوار کم کرنے کے اوپیک کے فیصلے سے سعودی عرب کی اقتصادی ترقی اس سال صفر پر چلی جائے گی اور سعودی حکومت اس خسارے کی تلافی دوسرے ذرائع سے کرنا چاہے گی اور اس میں مذہبی سیاحت سے ہونے والی آمدنی سے سب سے زیادہ ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں