یورپ میں گرمی کی لہر، کئی ممالک میں ہیلتھ وارننگ جاری

چیک ریپبلک تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption منگل کے روز گروشیا میں درجہ 37 سنٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا

براعظم یورپ کے بعض ممالک شدید گرمی کی زد میں ہیں اور درجہ حرارت 42 سنٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے۔

کئی ممالک نے گرمی کی شدت کے باعث ہیلتھ وارننگ جاری کی ہیں اور شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ گرمی سے بچنے کے لیے اقدامات کریں۔

اٹلی میں گرم موسم کی وجہ سے جنگلوں میں آگ لگنے کے واقعات پیش آئے ہیں اور درجنوں قصبوں میں الرٹ پر رکھا گیا ہے۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گرمی کی شدت کی وجہ سے کئی علاقوں میں پانی کی قلت واقع ہو سکتی ہے۔

اٹلی میں اس وقت درجہ حرارت سال کے انہی دنوں میں معمول کے درجہ حرارت سے دس درجے زیادہ ہے۔

رواں ہفتے میں بحیرہ روم میں واقع جزیرے سلسلی میں درجہ حرارت 42 سنٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

یورپ کے جنوبی شہروں میں سیاح اور مقامی لوگ گرمی سے بچاؤ کے لیے عوامی مقامات پر لگے فواروں میں اپنے آپ کو ٹھنڈا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption الباانیہ میں نوجوان فواروں میں کھیلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption تین اگست: روم کے پیٹر سکوائر میں ایک شخص اپنے آپ کو ٹھنڈا کرنے کرنے کی کوشش کر رہا ہے

محکمہ موسمیات کے مطابق آنے والے دنوں میں خطہ بلقان اور مرکزی یورپ کے ممالک میں درجہ حرارت مزید بڑھنے کا امکان ہے

ماہرین کے مطابق گرم کی شدت سوموار تک قائم رہنے کا امکان ہے۔ یورپ کے 26 شہروں میں ہیلتھ وارننگ جاری کی گئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ویانا میں ان گھوڑوں کو گرمی سے بچانے کے لیے نہلایا جا رہا ہے
تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption روم میں سیاح شہر میں جگہ جگہ لگے فواروں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption چیک ریپبلک کے دارالحکومت پراگ میں لوگ گرم موسم میں سن باتھ لے رہے ہیں۔ پراگ میں درجہ حرارت 38سنی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں