’رقہ میں دولتِ اسلامیہ کے دو ہزار جنگجو موجود‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ایک سینیئر امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ کہ کم از کم 2000 جنگجو اب بھی رقہ میں موجود ہیں جو اپنے مضبوط گڑھ کو دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

دولتِ اسلامیہ کے خلاف قائم اتحاد کے لیے خصوصی ایلچی بریٹ مکگریک کا کہنا تھا کہ جون میں شروع ہونے والی کارروائی کے بعد سے امریکی حمایت یافتہ فورسز نے رقہ شہر کے 45 فیصد حصے پر قبضہ حاصل کر لیا ہے۔

* رقہ کی پیچیدہ جنگ اس وقت کیوں؟

* دولتِ اسلامیہ کی پروپیگنڈہ ’وار‘

ان کا کہنا تھا کہ تنظیم کے شدت پسند اپنے بقا کے لیے لڑ رہے ہیں اور امکان ہے کہ وہ شہر میں ہی مارے جائیں گے۔

دولتِ اسلامیہ نے سنہ 2014 میں رقہ پر قبضہ کر کے ’خلافت‘ کا اعلان کیا تھا۔

شامی فوجوں سیریئن ڈیمو کریٹک فورسز وقتاً فوقتاً پیش قدمی کرتی رہیں تاہم جون میں انھوں نے بڑا حملہ کیا۔

یہ واضح نہیں ہے کہ رقہ میں کتنے شہری موجود ہیں تاہم اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق کم از کم 20 ہزار سے 50 ہزار شہری اب بھی شہر میں ہیں۔

موصل سے نکالے جانے کے بعد رقہ کا علاقہ گنوا دینا دولتِ اسلامیہ کے لیے بڑا دھچکا ہوگا۔

امریکی خصوصی ایلچی بریٹ مکگریک کے مطابق یہ شدت پسند گروہ عراق میں قبضہ کیے گئے علاقے کا 78 فیصد گنوا چکے ہیں جبکہ شام میں 58 فیصد حصہ ان سے واپس حال کر لیا گیا ہے۔

شام میں جاری تنازعے میں گذشتہ چھ سال کے دوران تین لاکھ افراد جانیں گنوا چکے ہیں۔ یہ تنازع صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف مظاہروں سے شروع ہوا اور خانہ جنگی میں تبدیل ہو گیا۔ اس کے باعث کم از کم ایک کروڑ دس لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں