ایٹمی معاہدے سے انحراف ٹرمپ کی سیاسی خودکشی ہو گا: روحانی

صدر روحانی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ اگر انھوں نے ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ ختم کیا تو یہ ٹرمپ کی سیاسی خودکشی ہو گی۔

اپنی حلف برداری کی تقریب میں روحانی نے کہا کہ ایران اس وقت تک معاہدے کی شرائط پر عمل کرتا رہے گا جب تک دوسرے دستخط کنندگان بھی ایسا کرتے رہیں۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ایران معاہدے کی پاسداری کر رہا ہے تاہم صدر ٹرمپ کے مطابق ایران اس معاہدے کی روح کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

گذشتہ ماہ امریکی محکمۂ خارجہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ پابندیوں کا تعلق ایران کے میزائل پروگرام سے ہے اور الزام لگایا ہے کہ ایران دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کرتا ہے، جب کہ ایران کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں ایٹمی معاہدے کے منافی ہیں۔

صدر روحانی مئی میں دوسری بار صدارتی انتخابات جیتنے کے بعد اب اپنے عہدے کا حلف اٹھا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انھیں 'عالمی سیاست میں نوواردوں' سے کچھ لینا دینا نہیں ہے، اور 'پرانے لوگوں' پر زور دیا کہ وہ اس ایٹمی معاہدے کو ایک مثال کے طور پر دیکھیں کہ بین الاقوامی تعلقات کیسے نبھائے جاتے ہیں۔

انھوں نے سرکاری ٹیلی ویژن پر کہا: 'وہ لوگ جو ایٹمی معاہدے کو پھاڑ کر پھینکنا چاہتے ہیں انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اپنی سیاسی زندگی کو چیر پھاڑ رہے ہیں۔'

انھوں نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ ناقابلِ اعتماد ساتھی ہے۔

اسی دوران ایرانی حکام یورپی رہنماؤں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کا ساتھ نہ دیں۔

ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ یورپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ٹرمپ ایٹمی معاہدہ ختم کر کے ایران کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے سینئر مشیر علی اکبر ولایتی نے یورپ سے کہا کہ وہ 'ایران کے بارے میں زیادہ خودمختارانہ پالیسی اپنائے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں