اسرائیل بھی عرب ملکوں کی راہ پر، الجزیرہ پر بندش

الجزیرہ تصویر کے کاپی رائٹ EPA

اسرائیل ملک کے اندر قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے دفاتر بند کرنا اور اس کے صحافیوں کے کاغذات منسوخ کرنا چاہتا ہے۔

وزیرِ اطلاعات ایوب کارا نے الزام لگایا کہ الجزیرہ دہشت گردی کی معاونت کرتا ہے اور کہا کہ اس کے انگریزی اور عربی دونوں چینل بند کر دیے جائیں گے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو نے چینل پر 'اشتعال انگیزی' کا الزام عائد کیا۔

کیا الجزیرہ بقا کی جنگ جیت پائے گا؟

اسرائیل کا الجزیرہ ٹی وی پر تشدد کو ہوا دینے کا الزام

الجزیرہ نے اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔

اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ ان کے اس فیصلے کی بنیاد حال ہی میں کئی عرب ملکوں کی جانب سے الجزیرہ پر عائد کردہ پابندی ہے۔ ان عرب ملکوں کی قطر سے سفارتی کشیدگی عروج پر ہے۔

کارا نے کہا کہ کیبل والوں نے نیٹ ورک کو بند کرنے سے اتفاق کر لیا ہے تاہم یروشلم میں واقع الجزیرہ کے دفتر کو بند کرنے کے لیے مزید قانون سازی کی ضرورت ہو گی۔

انھوں نے ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: 'الجزیرہ داعش، حماس، حزب اللہ اور ایران کا بنیادی آلۂ کار بن گیا ہے۔'

نتن یاہو نے ٹوئٹر کے ذریعے کارا کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے 'میری ہدایات پر الجزیرہ کی اشتعال انگیزی روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات اقدامات کیے۔'

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں الجزیرہ کے ایک عہدے دار نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ چینل 'اس ریاست کی جانب سے اس عمل پر متاسف ہے جو اپنے آپ کو مشرقِ وسطیٰ کی واحد جمہوری ریاست کہتا ہے۔' انھوں نے کہا کہ جو اسرائیل نے کیا وہ 'خطرناک' ہے۔

نتن یاہو نے الجزیرہ پر الزام لگایا ہے کہ اس نے حال ہی میں یروشلم میں حرم الشریف میں سکیورٹی گیٹ لگانے کے معاملے پر اٹھ کھڑے ہونے والے تنازعے کو ہوا دی تھی۔

اسرائیلی حکومت نے فلسطینیوں کے احتجاج کے پیشِ نظر بالآخر یہ گیٹ ہٹا دیے تھے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم نے جولائی میں عہد کیا تھا کہ وہ الجزیرہ کو ملک بدر کر کے رہیں گے کیوں کہ ان کے بقول اس کی رپورٹنگ سے تشدد کو شہ ملی۔

الجزیرہ کے عہدے دار نے اپنی کوریج کا دفاع کرتے ہوئے اسے 'پیشہ ورانہ اور معروضی' قرار دیا۔

یروشلم میں الجزیرہ کے ایڈیٹر نے نتن یاہو پر الزام لگایا ہے کہ وہ آزاد اور خودمختار میڈیا پر حملے کے معاملے میں اپنے مطلق العنان ہمسایہ ملکوں سے مل گئے ہیں۔

سعودی عرب اور اردن نے بھی الجزیرہ کے دفاتر بند کر دیے ہیں جب کہ عرب امارات اور بحرین نے اس کی نشریات اور ویب سائٹ بند کر دی ہیں۔

اسرائیل کی وزارتِ اطلاعات نے کہا کہ 'خطے کے تقریباً تمام ملک اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ الجزیرہ دہشت گردی اور مذہبی انتہاپسندی کو ہوا دیتا ہے۔'

الجزیرہ کا آغاز 1996 میں ہوا تھا اور اس نے خطے کے حکمرانوں پر تنقید کر کے مشرقِ وسطیٰ کے میڈیا میں انقلاب برپا کر دیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں