خطے میں ایک اور جنگ چھڑنے نہیں دیں گے: جنوبی کوریا

آسیان تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption جنوبی کوریا کی وزیر خارجہ کو جاپانی وزیر خارجہ کے ساتھ آسیان کی تین روزہ کانفرنس میں شرکت کرتے دیکھا جا سکتا ہے

اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔

جنوبی کوریا کی خبر رساں ایجنسی یونہیپ کے مطابق شمالی کوریا پر اقوام متحدہ کی نئی پابندیوں کے بعد دونوں حریفوں کے درمیان ایک نادر ملاقات میں یہ پیشکش کی گئی تھی۔

ایجنسی کے مطابق منیلا میں منعقدہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے علاقائی فورم (آسیان) کی کانفرنس کے دوران یہ بات ہوئی جہاں شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے وزرائے خارجہ نے مصافحہ کیا۔

٭ چین نے بھی شمالی کوریا کا ساتھ چھوڑ دیا

٭ 'ہم آپ کے دشمن نہیں': امریکہ کی شمالی کوریا کو وضاحت

دوسری جانب خبررساں ادارے اےایف پی کے مطابق جنوبی کوریا کے صدر مون جائے ان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلیفون پر ہونے والی بات چيت میں علاقے کی کشیدگی کے 'پرامن حل' پر زور دیا۔

ایک اندازے کے مطابق یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر جزیرہ نما کوریا میں روایتی جنگ بھی ہوتی ہے تو چند مہینوں میں دس لاکھ افراد ہلاک اور زخمی ہو جائيں گے۔

مون نے صدر ٹرمپ سے کہا ہے کہ جنوبی کوریا 53-1950 کی جنگ کے بعد خطے میں 'کوئی دوسری جنگ نہیں چھڑنے دے گا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption منیلا میں یکجا آسیان کے اراکین میں دائیں سے دوسرے نمبر پر شمالی کوریا کے وزیر خارجہ دیھکے جا سکتے ہیں

خیال رہے کہ پہلی جنگ کے نتیجے میں کوریا کی تقسیم پر مہر لگ گئی تھی۔

اتوار کو منیلا میں منعقدہ عشائیہ میں کانگ کیونگ وھا نے اپنی شمالی کوریائی ہم منصب ری یونگ ہو سے کہا کہ شمالی کوریا کشیدگی کم کرنے کے لیے سیول کی فوجی مذاکرات کی پیشکش کو قبول کرے۔

اس کے ساتھ انھوں نے جزیرہ نما کے منقسم خاندان کے پھر سے ایک ساتھ آنے کے متعلق نئے دور کے مذاکرات کی بات بھی کہی۔

لیکن یونہیپ نے ایک نامعلوم اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ ری یونگ ہو نے ان سے کہا: 'موجود حالات میں جبکہ جنوبی کوریا شمالی کوریا پر دباؤ ڈالنے کے لیے امریکہ کے ساتھ ملا ہوا ہے ایسی تجاویز میں سنجیدگی نظر نہیں آتی۔'

خیال رہے کہ مون کے مئی میں صدر بننے کے بعد سے یہ شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان اس سطح کی پہلی بات چيت تھی۔

Image caption شمالی کوریا نے حال ہی اقوام متحدہ کی پابندیوں کے باوجود کئی میزائل کے تجربے کیے

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے شمالی کوریا کے میزائل پروگرام کی پاداش میں اس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی منظوری دی ہے جس سے چین نے بھی اتفاق کیا ہے۔

شمالی کوریا کی برآمدات اور سرمایہ کاری کو محدود کرنے کے بارے میں قرارداد اتفاقِ رائے سے تسلیم کر لی گئی۔

اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے کہا کہ 'یہ ایک نسل میں کسی بھی ملک کے خلاف سخت ترین پابندیاں ہیں۔'

شمالی کوریا نے جولائی میں دو بین البراعظمی میزائلوں کا تجربہ کیا تھا، اور دعویٰ کیا تھا کہ وہ امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں۔

تاہم ماہرین نے ان میزائلوں کے اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت پر شک کیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں