سعودی عرب میں گھریلو ملازمہ کے لیے انوکھی سروس

اشتہار تصویر کے کاپی رائٹ RIYADH AIRPORTS/TWITTER
Image caption اشتہار میں کہا گیا ہے کہ گھریلو ملازمہ کو براہ راست آپ کے گھر پہنچانے کا انتظام ایئرپورٹ پر موجود ہے

سعودی عرب کے ایک ایئرپورٹ نے بیرون ملک سے آنے والی گھریلو ملازماؤں کے لیے ایک سروس شروع کی ہے جس کے تحت انھیں ایئرپورٹ پر اترنے کے بعد براہ راست ان کے مالکان تک پہنچا دیا جائے گا تاکہ انھیں وہاں خود سے نہ جانا پڑے۔

سعودی عرب کے کنگ خالد ایئرپورٹ کی نمائندگی کرنے والی ریاض ایئرپورٹ کمپنی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک تصویر پوسٹ کی ہے جس میں طیارے کا دروازہ ایک گھر میں کھلتا ہوا نظر آتا ہے۔

٭ سعودی عرب سے لوٹے انڈین مزدوروں کی کہانی

اس کے ساتھ یہ لکھا ہوا ہے کہ 'اس توصلک سروس کے تحت ہم آپ کی گھریلو ملازمہ کو طیارے سے براہ راست آپ کے گھر پہنچاتے ہیں۔'

اس سروس کی خدمات لوگ فون کے ذریعے ڈراپ کرنے کی فیس ادا کر کے حاصل کر سکتے ہیں۔

اس پر عرب کے ٹوئٹر صارفین کی جانب سے ملے جلے رد عمل سامنے آئے ہیں۔

بعض کا کہنا ہے کہ کمپنی کی یہ سروس ان بیرونی گھریلو ملازموں کو بے جا پریشانیوں سے بچاتی ہے جبکہ بعض نے اسے گھریلو ملازموں کو مصنوعات میں تبدیل کرنے کے طور پر بیان کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خلیج کی یہ مملکت لاکھوں گھریلو ملازموں پر منحصر ہے

ایک ٹوئٹر صارف نے پوچھا کہ 'کیا انھیں کارگو سمجھا جائے؟' جبکہ ایک دوسرے صارف نے کہا کہ اس سروس کا مطلب انھیں کہیں 'بھاگنے سے روکنا' نظر آتا ہے۔

خلیج کی یہ مملکت لاکھوں گھریلو ملازموں پر منحصر ہے جن میں سے بہت سے بنگلہ دیش جیسے جنوبی ایشیائی ممالک سے آتے ہیں۔

تمام بیرونی ملازموں کو سعودی عرب میں داخل ہونے اور وہاں سے باہر جانے کے لیے سعودی شہری سپانسر کی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے اور ویزے کے انتظام میں چھ ماہ تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

انسانی اور ملازموں کے حقوق کی تنظیموں کی شکایت ہے کہ بیرونی ملازموں کو عام طور پر خراب حلات میں رکھا جاتا ہے اور انھیں ملازمت بدلنے کا موقع نہیں دیا جاتا ہے اور مالکوں کی اجازت کے بغیر وہ ملک سے واپس بھی نہیں ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں