’میں تو بھائی کے لیے بازو لے کر جا رہا ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Pear Video
Image caption حکام نے ژنگ کو یہ سوچ کر روک لیا کہ کہیں وہ کسی قتل میں ملوث نہ ہوں تاہم ژنگ کا کہنا تھا کہ یہ بازو اس کے بھائی کے ہیں اور اپنے بھائی کے کہنے پر وہ انھیں لے کر جا رہے ہیں۔

جنوب مغربی چین میں سکیورٹی حکام نے ایک ایسے شخص کو حراست میں لیا ہے جس کے بیگ سے انسانی بازو برآمد ہوئے ہیں۔

نیوز ایجنسی پیئر ویڈیو کے مطابق 50 سالہ ژنگ نامی شخص کو حکام نے اس وقت پوچھ گچھ کے لیے روکا جب بس سٹیشن کے سکینر پر ان کے بیگ میں انسانی بازو کی شکل کی کوئی چیز نظر آئی۔

جب حکام نے ان سے پوچھا کہ ان کے بیگ میں کیا ہے تو انھوں نے فوراً کہا کہ انسانی بازو!

مصر: انسانی اعضا کی سمگلنگ میں ملوث گروہ گرفتار

پناہ گزینوں کے جسمانی اعضا کا شکاری

حکام نے ژنگ کو یہ سوچ کر روک لیا کہ کہیں وہ کسی قتل میں ملوث نہ ہوں تاہم ژنگ کا کہنا تھا کہ یہ بازو اس کے بھائی کے ہیں اور اپنے بھائی کے کہنے پر وہ انھیں اس کے پاس لے جا رہے ہیں۔

ژنگ نے بتایا کہ ان کے بھائی کے بازو ایک حادثے کے بعد کاٹنے پڑے تھے تاہم ان کے بھائی نے ان سے مدد مانگی کہ وہ بازو ان کے پاس لے آئیں تاکہ جب وہ وفات پائیں تو انھیں ان کے ساتھ دفنایا جا سکے۔

ان کے بھائی کا علاج کرنے والے ہسپتال کا جانب سے ان کے دعوے کی تائید کے بعد حکام نے ژنگ کو رہا کر دیا ہے۔

یہ ایک روایتی چینی عقیدہ ہے کہ کسی کی وفات کے بعد جسدِ خاکی کو یا تو جلا دیا جائے یا مکمل شکل میں دفنایا جائے ورنہ مرنے والے کو موت کے بعد چین نہیں آتا۔

تاہم اس کہانی پر بہت سے لوگ حیران ہیں کیونکہ طبی عملے کو بھی انسانی اعضا کی نقل و حمل کے اجازت نامے لینے پڑتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Pear Video
Image caption نیوز ایجنسی پیئر ویڈیو کے مطابق 50 سالہ ژنگ نامی شخص کو حکام نے اس وقت پوچھ گچھ کے لیے روکا جب بس سٹیشن کے سکینر پر ان کے بیگ میں انسانی بازو کی شکل کی کوئی چیز نظر آئی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں