’امریکہ کو نشانہ بنانے کے لیے چار میزائل تیار کر رہے ہیں‘

شمالی کوریا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اس ماہ کے وسط تک وہ امریکی علاقے گوائم کو نشانہ بنانے کے لیے چار میزائل تیار کر لے گا۔

ریاستی میڈیا کا کہنا ہے کہ اگر کم جونگ ان نے اس منصوبے کی منظوری دے دی تو ہوسونگ-12 راکٹ جاپان کی فضائی حدود سے گزرتے ہوئے گوائم سے 30 کلومیٹر دور سمند میں جا گریں گے۔

ادھر امریکی وزیرِ دفاع جیمز میٹس نے شمالی کوریا سے کہا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کرنے سے گریز کرے جو 'اسے اس کی حکومت کے خاتمے اور عوام کی تباہی کی جانب لے جائیں۔'

امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ شمالی کوریا کا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف ’جنگ میں کوئی جوڑ نہیں ہے۔'

جیمز میٹس کا یہ بیان امریکی صدر کے اس بیان سے ایک دن بعد سامنے آیا تھا جس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر جنوبی کوریا نے امریکہ کو مزید دھمکی دی تو اسے 'آگ اور غصے'کا سامنا کرنا پڑے گا۔

شمالی کوریا کا امریکی اڈے 'گوام کو نشانہ بنانے' پر غور

اقوام متحدہ کی پابندیوں پر شمالی کوریا کا امریکہ کو انتباہ

چین نے بھی شمالی کوریا کا ساتھ چھوڑ دیا، اقوام متحدہ کی نئی پابندیاں

'ہم آپ کے دشمن نہیں': امریکہ کی شمالی کوریا کو وضاحت

بدھ کو سامنے آنے والے اس سخت پیغام میں امریکی وزیرِ دفاع نے شمالی کوریا سے اپنے ہتھیاروں کا پروگرام بند کرنے کو کہا ہے۔

اس سے پہلے امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا تھا کہ امریکہ کو شمالی کوریا کی جانب سے فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں ہے۔

ان کا یہ بیان شمالی کوریا کی جانب سے امریکہ کو دی جانے والی دھمکی کے بعد سامنے آیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

واضح رہے کہ شمالی کوریا نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ بحرالکاہل میں امریکی جزیرے گوام کو میزائل سے نشانہ بنانے کے بارے میں غور کر رہا ہے۔

شمالی کوریا نے بحرالکاہل میں امریکی جزیرے گوام پر حملہ کرنے کی دھمکی دی ہے جہاں امریکہ کے فوجی اڈے، اسٹریٹجک بمبار طیارے اور 163،000 امریکی رہتے ہیں۔

وسطی ایشیا کے دورے سے واپس آتے ہوئے ریکس ٹلرسن کا ہوائی جہاز ایندھن لینے کے لیے گوام پر اترا تھا۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے ٹلرسن نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ شمالی کوریا پر دباؤ ڈالنے کے لیے روس اور چین کے تعاون سے بین الاقوامی مہم کے مثبت نتائج ہوں گے اور شمالی کوریا کے ساتھ ایک 'نئے مستقبل' کو لے کر بات چیت ہو سکے گی۔

انھوں نے صدر ٹرمپ کے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ ان کو سفارت کاری کی زبان سمجھ نہیں آتی ہے اور اسے ایک واضح پیغام دینے کی ضرورت تھی۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر جنوبی کوریا نے امریکہ کو مزید دھمکی دی تو اسے ' آگ اور غصے' کا سامنا کرنا پڑے گا۔

نیو جرسی میں منگل کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا 'شمالی کوریا امریکہ کے خلاف مزید دھمکیاں دینا بند کرے ورنہ اسے ایک ایسی آگ اور غصے کا سامنا کرنا ہو گا جسے دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گی۔'

امریکی صدر کا یہ بیان واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں امریکی انٹیلیجنس کے اہلکاروں کے حوالے سے بتایا گیا کہ پیانگ یانگ نے اپنے میزائلوں کے اندر فٹ ہونے والے چھوٹے کیمیائی وار ہیڈ تیار کر لیے ہیں۔

اسی بارے میں