تھائی لینڈ میں ایک 91 سالہ خاتون نے بیچلرز ڈگری حاصل کر لی

Kimlan Jinakul تصویر کے کاپی رائٹ Panumas Sanguanwong/BBC Thai
Image caption بدھ کو انھوں نے آخر کار یہ ڈگری حاصل کر لی

تھائی لینڈ میں ایک 91 سالہ خاتون نے بیچلرز ڈگری حاصل کرنے کے بعد کہا ہے کہ ’پڑھائی کے لیے کبھی بھی دیر نہیں ہوتی۔‘

بی بی سی کی تھائی سروس سے بات کرتے ہوئے کملان جناکل کا کہنا تھا وہ ہمیشہ سے یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھیں لیکن نوجوانی میں انھیں کبھی موقع ہی نہیں ملا۔

لیکن لگ بھگ اپنی تمام زندگی گزارنے اور اپنے بچوں کو یونیورسٹی جاتے ہوئے دیکھنے کے بعد انھوں خود بھی یونیورسٹی جانے کا فیصلہ کیا۔

بدھ کو انھوں نے آخر کار یہ ڈگری حاصل کر لی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Panumas Sanguanwong/BBC Thai
Image caption ان کے پانچ میں نے چار بچوں نے ماسٹرز ڈگری لی جبکہ ایک پی ایچ ڈی کے لیے امریکہ گئے

کملان کا تعلق تھائی لینڈ کے شمالی صوبے لامپانگ سے ہے۔ وہ ایک ذہین طالبہ تھیں اور انھوں نے اپنے علاقے کے بہترین سکولوں میں تعلیم حاصل کی۔

لیکن ان کے خاندان کے بنکاک منتقل ہونے کے بعد ان کی شادی کر دی گئی اور انھیں تعلیم کو خیرباد کہنا پڑا۔

ان کا کہنا تھا: ’میں ہمیشہ چاہتی تھی کہ میرے بچے تعلیم حاصل کریں اس لیے میں نے ہمیشہ ان کی حوصلہ افزائی کی۔‘

ان کے پانچ میں نے چار بچوں نے ماسٹرز ڈگری لی جبکہ ایک پی ایچ ڈی کے لیے امریکہ گئے۔

یہ ان کے بچوں کے تعلیمی تجربے ہی کا اثر تھا کہ انھوں نے بھی اپنی تعلیم مکمل کرنے کا فیصلہ کیا۔

انھوں نے تعلیم کا سلسلہ 72 سال کی عمر شروع کیا لیکن ایک بیٹی کے مرنے کی وجہ سے چند سال تک یہ ملتوی کر دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Kimlan Jinakul
Image caption انھیں یہ ڈگری حاصل کرنے میں دس سال لگے

85 برس کی عمر تعلیمی سلسلہ بحال ہوا۔ کملان کا کہنا ہے کہ ’دکھ اور احساسِ زیاں سے نکلنے کے بعد میں نے خود کو دوبارہ تعلیم کی طرف راغب کیا۔ مجھے امید ہے کہ میری بیٹی کی روح یہ دیکھ کر خوش ہو گی۔‘

’پڑھنے کے لیے کبھی دیر نہیں ہوتی۔ میرا ذہن سیکھنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہے۔ یہ دنیا نہیں رکتی۔ یہاں ہمیشہ کچھ نئے مسائل حل ہونے کے لیے موجود رہتے ہیں۔ اگر سائنس نہیں ہوتی تو دنیا میں ترقی کا عمل رک جاتا۔‘

اپنی کامیابی کا راز بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ استقامت اور جذبہ انھیں اتنی دور تک لایا ہے۔

’مجھے جو سبق یاد کرنا ہوتا میں اس کے اہم نکات کو الگ کرتی اور یاد کرتی۔ اس سے مجھی کافی مدد ملی۔

’جب میں کامیاب ہوتی تو میں خوش ہوتی اور اگر ناکام ہوتی تو اداس ہو جاتی۔ لیکن میں نے اس وقت تک امتحان دیا جب تک میں پاس نہیں ہو گئی۔‘

اسی بارے میں