’ایئر پورٹ پر ہی نئے کپڑے خریدنے پڑے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سعودی ایئر لائنز نے اپنی ویب سائٹ پر حال ہی میں مسافروں کے لیے لباس کا ضابطہ (ڈریس کوڈ) جاری کیا ہے۔ اس ڈریس کوڈ کے مطابق مردوں کو نیکر پہننے کی ممانعت ہے۔

اس ڈریس کوڈ کے مطابق مسافروں کو کوئی بھی ایسا لباس نہیں پہننا چاہیے جس سے دیگر مسافروں کو اچھا محسوس نہ ہو۔

اس کوڈ کے تحت مرد وہ لباس نہیں پہنیں گے ان سے ان کی ٹانگیں دکھائی دیتی ہوں جیسے کہ شارٹس وغیرہ۔ وہیں، خواتین کو اس ڈریس کوڈ کے تحت ٹاںگیں اور بازو دکھانے والے کپڑے پہننے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی خواتین کا لباس باریک اور انتہائی تنگ نہیں ہونا چاہیے۔

ڈریس کوڈ نہیں مانا تو ...

ایئر لائنز نے اپنی ویب سائٹ پر معلومات جاری کی ہیں کہ کمپنی ہوائی سفر کے دوران ڈریس کوڈ پر عمل نہ کرنے والے مسافروں کو پرواز کینسل کرنے اور راستے میں بھی اتارنے کا حق رکھتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SAUDIA.COM

سوشل میڈیا پر بہت سے صارفین نے سعودی ایئر لائنز کے اس ڈریس کوڈ پر اپنی رائے دی ہے۔

ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ ’کچھ مسافروں کو سفر شروع کرنے سے پہلے ان قوانین کے بارے میں معلوم نہیں تھا اور کچھ غیر ملکی لوگوں کے لیے یہ بہت زیادہ تھا۔ وہیں، کچھ لوگوں کو ایئر پورٹ پر ہی نئے کپڑے خریدنے پڑے۔‘

لیکن ایک اور ٹوئٹر صارف، ایئر لائنز کے اس قدم کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ایئر لائنز پرواز میں شراب نہیں دیتیں، نماز پڑھنے کی جگہ دیتی ہے۔ اس کے علاوہ میں اور میرے بچے آزادی کے نام پر ایسے کپڑے پہننے کے لیے مجبور نہیں ہیں۔

ایک خاتون صارف نے اس حوالے سے کہا کہ ’ایسے میں سعودی عرب کس طرح غیر ملکی سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکتا ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں