یورپ: یورپیئن کمشنر کی آلودہ انڈوں پرتو تو میں میں سے باز رہنے کی ہدایت

انڈے تصویر کے کاپی رائٹ AFP

غذائی تحفظ سے متعلق یورپی یونین کے کمشنر کا کہنا ہے کہ مختلف یورپی ممالک کو آلودہ انڈوں سے متعلق ایک دوسرے پر الزام تراشی اور شرمشار کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

حال ہی میں ڈنمارک میں فوڈ سکیورٹی حکام نے کہا تھا کہ ملک میں کیڑا مارنے والی ایک زہریلی دوا سے آلودہ 20 ٹن انڈے فروخت ہوئے ہیں۔

کمشنر ویتنیز انڈریاکٹیز نے کہا کہ اس سلسلے میں یورپی یونین کے وزارا اور ریگولیٹرز کو فوری طور پر ملاقات کرنی چاہیے۔

٭ نیدر لینڈ کے آلودہ انڈے برطانیہ اور فرانس میں

ہالینڈ سے آنے والے انڈوں میں خاص طور پر فپرونل نامی کیمیائی مواد کی موجودگی کا پتہ چلا ہے اور یورپی یونین کے رکن ممالک میں غذائی اشیا میں اس مادے پر پابندی عائد ہے۔

ڈنمارک میں اس انکشاف کے بعد سے بحث اس بات پر ہو رہی ہے کہ آخر اس بارے میں بیلجیئم اور ہالینڈ کے حکام کو کب سے معلوم رہا ہوگا۔

جمعرات کو حکام نے اس سلسلے میں بعض کمپنیوں پر چھاپے کی کارروائی کر کے دو افراد کو گرفتار کیا تھا۔

برطانیہ میں بھی غذائی اشیا کی نگرانی کرنے والے ادارے کا کہنا ہے کہ تقریبا سات لاکھ ایسے انڈے ہالینڈ کی ایک کمپنی سے برطانیہ پہنچے ہیں جو ممنوعہ مادے سے متاثر ہیں۔

تاہم 'فوڈ سٹینڈرز ایجنسی' کا کہنا ہے کہ ابھی اس سے عوام کی صحت خراب ہونے جیسا کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں ہے۔

بیلجیئم، جرمنی اور ہالینڈ جیسے کئی ممالک کی سوپر مارکیٹوں نے ایسے آلودہ لاکھوں انڈوں کو بازار سے باہر کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ فوڈ چینز میں فپرونل نامی کیمیائی مواد کی انڈوں میں موجودگی کا پہلا واقعہ ڈنمارک میں پیش آیا تھا۔

خوراک میں فپرونل نامی کیمیائی مواد کی زیادہ مقدار میں آلودگی سے انسانی گردوں، جگر اور تھائیرائیڈ غدود متاثر ہو سکتے ہیں۔

ڈنمارک کے بھی محکمۂ خوراک کے حکام کا کہنا ہے کہ ان آلودہ انڈوں کا استعمال صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہے۔

متاثرہ انڈوں کی اکثریت نیدر لینڈ سے ہے تاہم یہ جرمنی اور بیلجیئم میں بھی پائے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بیشتر آلودہ انڈے نیدرلینڈ سے دیگر یورپی ممالک میں پہنچے ہیں

رومانیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ایک گودام میں مائع انڈوں کی زردیوں میں زہریلا کیمیائی مواد فپرونل کی موجودگی کا پتہ چلا۔

دوسری جانب ڈنمارک میں حکام نے ایک کارروائی کرکے دو مینجروں کو حراست میں لیا ہے۔

تاہم ڈنمارک کی فوڈ ایڈمنسٹریشن نے اس صورتِ حال پر پرسکون رہنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ڈینگ کمپنی‘ کی فراہم کردہ مصنوعات سے انسانی صحت پر مضر اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔

ڈنمارک کی خوراک کی ایجنسی کے مطابق نیدر لینڈ میں کی جانے والی تحقیق سے انڈوں میں فپرونل نامی کیمیائی مادے کی موجودگی کا پتہ چلا ہے، تاہم یہ انسانی صحت کے لیے خطرہ نہیں ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق رومانیہ اور لیگزنبرگ میں بھی یہ آلودہ انڈے پائے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ مرغ بانی میں فپرونل کا استعمال جوؤں اور خون چوسنے والے چھوٹے کیڑے کو مارنے کے لیے ہوتا ہے لیکن اس کا غذا میں موجود ہونا خطرناک ہے۔

یورپی یونین کے قوانین کے تحت فپرونل کی کھانے کی صنعت میں استعمال پر پابندی عائد ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں