شمالی کوریا کے حملے پر آسٹریلیا ‘امریکہ کی مدد کرے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption امریکہ صدر نے مئی میں آسٹریلوی وزیراعظم سے ملاقات کی تھی

آسٹریلوی وزیراعظم میکلم ٹرنبل نے کہا ہے کہ اگر شمالی کوریا نے امریکہ پر حملہ کیا تو اُن کا ملک امریکہ کے ساتھ اس لڑائی میں معاونت کے لیے تیار ہے۔

ادھر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کو خبردار کیا ہے کہ امریکہ کے خلاف کسی بھی کارروائی کے بعد انھیں 'بہت زیادہ پریشان' ہونا پڑے گا۔

٭ شمالی کوریا ایسے پھنسے گا جیسے پہلے کوئی نہیں پھنسا: ڈونلڈ ٹرمپ

٭ شمالی کوریا کی فوجی طاقت کا مظاہرہ

آسٹریلوی وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ پر کسی طرح کا حملہ ہونے کی صورت میں اُن کا ملک آسٹریلیا، نیوزی لینڈ امریکہ سکیورٹی معاہدے کی پاسداری کرے گا۔

یہ سکیورٹی معاہدہ سنہ 1951 میں طے پایا تھا جس کا مقصد دوسرے ممالک کی جارحیت کی صورت میں ایک دوسرے کا دفاع کرنا ہے۔

معاہدے کے تحت کسی بھی ایک ملک پر حملہ ہونے کی صورت میں دوسروں پر لازم ہے کہ وہ اس پر ’مشاورت کرے‘ اور ’مجموعی خطے کے خلاف کارروائی کرے۔‘

مقامی ریڈیو سے بات چیت میں انھوں نے کہا کہ امریکہ آسٹریلیا سمیت اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور ہم امریکہ کے ساتھ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’مجھے اس سلسلے میں کوئی ابہام نہیں ہے، اگر امریکہ پر کوئی حملہ ہوتا ہے تو سیکورٹی معاہدہ لاگو ہو گا اور آسٹریلیا امریکہ کی اُسی طرح مدد کرے گا جیسے امریکہ اُن کی کرے گا۔‘

یاد رہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے دو میزائل تجربات کے بعد حالیہ ہفتوں میں امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

وزیراعظم ٹرنبل نے امریکی اتحاد کو 'قومی سلامتی کے لیے حتمیٰ چٹان' کے طور پر بیان کیا۔

'یہ کیسے ممکن ہو گا اس کا انحصار موجودہ حالات اور اتحادیوں سے مشاورت پر ہے۔‘

آسٹریلوی وزیراعظم نے بتایا کہ گذشتہ رات انھوں نے ٹیلی فون پر امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس سے شمالی کوریا کے معاملے پر بات چیت کی ہے لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس بات چیت میں آسٹریلوی معاونت کے بارے میں کوئی بات ہوئی یا نہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں