امریکہ: حجاب پر پولیس کی زبردستی، لڑکی کو 85 ہزار ڈالر کا ہرجانہ

کرسٹی پاویل تصویر کے کاپی رائٹ CAIR
Image caption 2015 میں گرفتاری کے بعد مرد پولیس اہلکاروں نے کرسٹی پاویل کو اپنا سکارف ہٹانے پر مجبور کیا تھا

اامریکی ریاست کیلفورنیا میں مرد پولیس اہلکاروں نے جس مسلمان خاتون کو زبردستی حجاب اٹھانے پر محبور کیا تھا، انھیں 85 ہزار ڈالر بطور ہرجانہ ادا کیا گيا ہے۔

2015 میں گرفتاری کے بعد مرد پولیس اہلکاروں نے کرسٹی پاویل کو اپنا سکارف ہٹانے پر مجبور کیا تھا جس کے بعد انھوں نے لانگ بیچ سٹی کاؤنسل کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کیا تھا۔

اس وقت کرسٹی نے پولیس حکام سے بار بار گزارش کی کہ ان کے معاملے سے مردوں کے بجائے خاتون پولیس اہلکاروں کو نمٹنا چاہیے تاہم پولیس نے ان کی ایک نہیں سنی اور انھیں پوری رات پولیس کی حراست میں بغیر سکارف کے گزارنی پڑی تھی۔

اس واقعے کے بعد محکمہ پولیس نے مذہبی طور پر سر ڈھکنے سے متعلق اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کی ہے۔

اس نئی پالیسی کے تحت اب صرف خواتین پولیس اہلکاروں ہی کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ مرد پولیس حکام اور دیگر قیدیوں کی غیر موجودگی میں خواتین کے کے حجاب کو ہٹا سکیں۔

لانگ بیچ کی انتظامیہ کے اٹارنی مونٹے مشیٹ کا کہنا ہے کہ ایسی خواتین کے حجاب کو ہٹانے کی اجازت صرف اس وقت ہی ہے جب پولیس اہلکار کو اپنے تحفظ کے لیے ایسا کرنا ضروری ہو۔

یہ کیس عدالت میں چل رہا تھا لیکن مسلمانوں کی تنظیم ’کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز' (سی اے آئی آر) اور بیچ کونسل کے درمیان بات چیت کے بعد یہ سمجھوتہ طے پا گيا ہے۔

سی اے آئی آر نے ہی محترمہ پاویل کے لیے عدالتی کارروائی شروع کی تھی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ 'پولیس اہلکار نے ان کا حجاب وہاں موجود کئی مرد پولیس اہلکاروں اور دیگر قیدیوں کی موجودگی میں ہٹایا تھا۔'

سی اے آئی آر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بعد میں کرسٹی نے اس واقعے اور تجربے کو بہت ہی پریشان کن بتایا تھا۔

ایک مقامی نیوز ویب سائٹ اے بی سی 7 کا کہنا ہے کہ محترمہ کرسٹی کے خلاف تین وارٹ جاری کیے گئے تھے لیکن اس کے بعد وہ سب ختم کر دیے گئے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں