کینیا: انتخابی نتائج کے بعد حزب اختلاف کے مظاہرے

اوہرو کینیٹا تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption اوہرو کینیٹا نے جیت کے اعلان کے بعد لوگوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے

کینیا میں حکام نے بتایا ہے کہ منگل کو منعقدہ انتخابات میں کینیا کے صدر اوہرو کینیٹا دوبارہ منتخب کر لیے گئے ہیں۔

اوہرو کینیٹا سنہ 2013 سے ملک کے صدر ہیں۔ حالیہ انتخابات میں انھوں نے اپنے مد مقابل رئیلا اوڈنگا کو شکست دی ہے۔

صدر اوہرو کینیٹا کو انتخابات میں 4.3 فیصد ووٹ ملے جبکہ ان کے حریف کو 44.7 فیصد ووٹ ملے۔

انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد صدر کینیٹا نے اتحاد کی اپیل کی اور حزب اختلاف سے کہا: 'ہم آپ کے پاس آئے ہیں۔۔۔ ہم سب اسی جمہوریہ کے باشندے ہیں۔'

لیکن حزب اختلاف نے نتائج کے اعلان سے قبل ہی اسے مسترد کر دیا اور اسے 'معمہ' قرار دیا۔

بہر حال ان نتائج کو بین الاقوامی مبصرین نے قبول کیا ہے۔ اوہرو کینیٹا نے کہا کہ انھوں نے 'آزاد، شفاف اور قابل اعتماد' انتخابات کو یقینی بنایا ہے۔

انتخابات کے نتائج کے بعد حزب اختلاف کے گڑھ کیسومو شہر اور کیبیرا سمیت دارالحکومت نیروبی کی بہت سی کچی آبادیوں میں مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہاں کاروبار کو نقصان پہنچایا گيا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption دارالحکومت نیروبی کے کیبیرا میں آتشزدگی کے واقعات پیش آئے ہیں

انتخابات کے نتائج کے امکان میں ان علاقوں میں پولیس تعینات کی گئی تھی اور انھوں نے کئي مقامات پر اشک آور گیس کے گولے داغے ہیں۔

کیسومو میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار نے کہا کہ مظاہرین نے سڑکوں پر آگ جلا رکھی ہے۔

اس سے قبل مسٹر اوڈنگا کے حامیوں نے کہا کہ وہ انتخابات میں جیت گئے ہیں اور انھوں نے اپنے نتائج جاری کر دیے تھے۔ الیکشن کمیشن نے اسے غیر قانونی اور قبل از وقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں بنیادی ریاضی کی غلطیاں ہیں۔

بعض مبصرین نے یہ تشویش ظاہر کی ہے کہ کہیں یہ دس سال قبل ہونے والے انتخابات جیسا نہ ہو جس میں 1100 سو سے زیادہ افراد ہلاک اور چھ لاکھ افراد بے گھر ہو گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اوہرو کینیٹا کے حامیان نتائج کے بعد پرجوش انداز میں نظر آ رہے ہیں

اوہرو کینیٹا نے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ انھوں نے کہا: ہم نے سیاسی تشدد کا نتیجہ دیکھ رکھا ہے۔ اور ہم سے کوئی ایسا کینیائي شہری نہیں ہوگا جو اسے دہرانا چاہتا ہو۔

اس کے علاوہ نتائج سے قبل مسٹر اوڈنگا نے بھی اپنے حامیوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی تھی لیکن کہا تھا کہ وہ کسی کو کنٹرول نہیں کریں گے کیونکہ 'لوگ انصاف کے طلبگار ہیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں