وائٹ ہاؤس کی جانب سے صدر ٹرمپ کا دفاع

تصویر کے کاپی رائٹ RYAN M KELLY/DAILY PROGRESS
Image caption سفید فام قوم پرستوں اور ان کی مخالفت کرنے والے مظاہرین کے درمیان گلیوں میں جھگڑے شروع ہوئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ریاست ورجینیا میں نسل پرستوں کی ریلی میں ہونے والے تشدد پر ان کے ردعمل پر انھیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تاہم وائٹ ہاؤس نے صدر کا دفاع کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر نے سفید نسل پرستوں کے بارے میں بھی بات کی گئی ہے۔

’سفید فام نسل پرستوں کا ہمدرد نہیں‘

'ہم سیاہ فاموں کو ٹِپ نہیں دیتے'

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےنسل پرستوں کی کھل کر تنقید کرنے کی بجائے میں ریلی میں 'ہرطرف سے تشدد' کی مذمت کی ہے۔

خیال رہے کہ سفید فام نسل پرستوں کی ریلی کے موقع پر شہر میں تشدد اور ہنگامہ آرائی کے دوران ایک خاتون ہلاک اور 19 دیگر افراد زخمی ہو گئے تھے۔

شہر میں دائیں بازو کو متحد کرنے کے لیے 'یونائیٹ دی رائٹ' کے نام سے ایک مارچ کا اہتمام کیا گيا تھا جس کا مقصد جنرل رابرٹ ای لی کے ایک مجسمے کو ہٹانے کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔ جنرل رابرٹ لی امریکی خانہ جنگی کے دوران غلامی کی حمایت کرنے والی تنظیم کے رہنما تھے۔

ورجینیا کے شہر شارلٹس ول میں انتہائی دائیں بازو کے نظریات کے حامل افراد کے جلوس کی مخالفت میں بہت سے لوگ جمع ہوئے تھے جہاں پر ایک شخص نے اپنی کار لوگوں پر چڑھا دی۔

ریپبلکن پارٹی کے سینیٹر کوری گارڈننر نے کہا: 'صدر صاحب ہمیں برائی کو اس کے نام سے پکارنا چاہیے۔یہ سفید فام نسل پرست تھے اور یہ گھریلو دہشتگردی ہے۔'

سینیٹر کوری گارڈنر کے علاوہ کئی دوسرے رہنماؤں نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا ہے۔

امریکی ریاست ورجینیا کے گورنر ٹیری میک اولف نے کہا ہے کہ سفید فاموں کی برتری کے لیے مہم چلانے والوں کے لیے، جنھوں نے مرکزی شہر شارلٹس ول میں ہنگامہ آرائی کر رکھی ہے، بس یہی پیغام ہے کہ وہ اپنے گھر چلے جائیں۔

اٹارنی جنرل جیف سیشنز نے کہا کہ ’شارلٹس ول میں تشدد اور موت نے امریکی قانون اور انصاف کو زک پہنچائی ہے۔ جب اس طرح کے افعال نسلی تعصب اور نفرت سے پیدا ہوتے ہیں تو وہ ہماری اقدار کے خلاف ہوتے ہیں اور انھیں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔‘

اس سے پہلے سفید فام قوم پرستوں اور ان کی مخالفت کرنے والے مظاہرین کے درمیان گلیوں میں جھگڑے شروع ہو گئے۔

شارلٹس ویل کے میئر کا کہنا ہے کہ اس میں ایک شخص کی ہلاکت سے ان کا دل ٹوٹ گيا ہے۔

اس سلسلے میں اوہائیو سے تعلق رکھنے والے 20 سالہ جیمز فیلڈ کو درجہ دوم کے قتل کے شبہے میں حراست میں لیا گيا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہر میں تشدد اور ہنگامہ آرائی کے دوران ایک خاتون ہلاک اور 19 دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں

شارلٹس ویل کی پولیس کا کہنا ہے کہ اسی طرح کے دو گروہوں کے درمیان ایک اور مقام پر ہونے والے جھگڑے میں 15 دیگر افراد بھی زخمی ہوئے ہیں۔

ورجینیا کی پولیس کا ایک ہیلی کاپٹر بھی شہر کے مغربی علاقے کے جنگل میں گر کر تباہ ہو گیا جس میں دو افراد ہلاک ہو گئے۔ لیکن اب تک ایسے کوئی اشارے نہیں ملے جس سے یہ لگتا ہو کہ اس کریش کا تعلق شہر میں بھڑکنے والے تشدد سے ہے۔

ورجینیا کے گورنر ٹیری میکولف نے ایک پریس کانفرنس میں ان واقعات پر شدید ناراضی کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا: 'سفید فام افراد کی برتری کی بات کرنے والے یا نازی نظریات کے حامل افراد جو شارلٹس ول آئے، ان سب کے لیے آج میرا ایک پیغام ہے۔ ہمارا پیغام بہت واضح اور سادہ ہے: گھر جایئے۔ اس عظیم دولت مشترکہ میں آپ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ شرم کرو۔ آپ محب وطن ہونے کا بہانہ کرتے ہیں، لیکن تم چاہے کچھ بھی ہو، تاہم حب الوطنی تم میں قطعی نہیں ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ان کا مزيد کہنا تھا: 'آپ آج یہاں لوگوں کو زخم پہنچانے کے لیے آئے تھے اور وہی آپ نے کیا بھی۔ لیکن میرا پیغام بہت واضح ہے، ہم آپ سے زیادہ مضبوط ہیں۔'

ورجیینا کے گورنر کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے جن کا کہنا تھا کہ انھوں نے صدر ٹرمپ سے کئی بار بات کی اور دو بار ان سے گزارش کی تھی کہ ایسی مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے جس سے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا جا سکے۔

شارلٹس ویل میں نظریاتی اختلافات پر اس طرح کا تشدد اس بات کا مظہر ہے کہ امریکہ میں لوگ کس سطح پر سیاسی طور پر منقسم ہیں اور صدر ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اس میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بہت سے سیاہ فام لوگوں نے رات میں مشعلیں جلا کر مارچ کیا

نیویارک ٹائمز کے مطابق سفید فام مہم کے حامی انتہائی دائیں بازو کے لوگ نعرہ لگا رہے تھے کہ ' آپ ہماری جگہ نہیں لے سکتے' اور 'یہودی بھی ہماری جگہ نہیں لے سکتے۔'

نسل پرستی کی مخالفت کرنے والے کئی گروپوں نے بھی اس کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

صدر ٹرمپ سمیت مختلف سیاسی رہنماؤں نے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انھوں نے کہا: 'نفرت اور تقسیم فوری طور پر رکنی چاہیے۔ ہمیں امریکی شہری کے طور پر ملک کے ساتھ محبت کے لیے ایک ساتھ آنے کی ضرورت ہے۔'

کئی دیگر رپبلکن اور ڈیموکریٹ رہنماؤں نے بھی اس تشدد کو نسل پرستانہ اور نفرت انگیز بتا کر سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں