امریکہ: کیا سفید فام نسل پرستی بڑھ رہی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکہ میں سفید فام قوم پرست تنظیمیں

امریکی ریاست ورجینیا کے شہر شارلٹس ول میں جان لیوا تشدد ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انتہائی دائیں بازو کی تنظیمیں امریکہ میں کافی نمایاں طور پر اُبھر کر سامنے آرہی ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ ایسےگروہوں کی سرگرمیوں کو ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی صدارتی انتخابات میں کامیابی سے تقویت ملی ہے۔ یہ گروہ بائیں بازو کی سوچ اور اعتدال پسند خیالات کو رد کرتے ہیں۔

خیال ہے کہ سوشل میڈیا بھی ایسے گروہوں کو بڑھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

امریکہ میں شہری حقوق کے لیے کام کرنے والے معروف ادارے سدرن پاورٹی لا کے مطابق وہ ایسے 1600 شدت پسند گروہوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ مگر ایسے گروہ کتنے مقبول ہیں اور وہ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

مندرجہ ذیل سفید فام نسل پرست گروہ امریکہ میں کافی متحرک ہیں۔

آلٹرنٹیو رائٹ (آلٹ رائٹ)

دی آلٹرنٹیو رائٹ یا آلٹ رائٹ کے نام سے مقبول اشتعال انگیزی پھیلانے والے یہ افراد ایک گروہ کی شکل میں سامنے آئے ہیں جنہیں سیاسی لحاظ سے درست زبان کے استعمال سے نفرت ہے اور صدر ٹرمپ انہیں محبوب ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ متعصب سفید فام قوم پرست ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ اس گروہ کی حالیہ مقبولیت میں اضافے کی وجہ 2016 میں امریکی صدارتی انتخابات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تعصبانہ جذبات کا اظہار ہے۔

جہاں تک ڈونلڈ ٹرمپ کا تعلق ہے انہوں نے 2016 میں اس گروہ کے خیالات سے عدم اتفاق کا اظہار کیا۔

آلٹ رائٹ کو میڈیا میں اُس وقت مقبولیت حاصل ہونا شروع ہوئی جب ڈونلڈ ٹرمپ نے جولائی 2016 میں ریپبلکن پارٹی کے نامزد امیدوار کی حیثیت سے حریف ہلیری کلنٹن کی تصویر داؤدی ستارے سے مشابہ ایک چھ کونے والے ستارے کے ہمراہ ٹویٹ کی اور ساتھ یہ لکھا کہ 'اب تک کی سب سے زیادہ کرپٹ امیدوار!'

رچرڈ برٹرنڈ سپینسر جنہوں نے آلٹرنیٹو رائٹ اصطلاح کا استعمال شروع کیا تھا کہتے ہیں کہ اس گروہ کا مقصد 'سفید فام افراد کی پہچان' اور 'روایتی مغربی معاشرے کی بقا' ہے۔

آزادی، آزادیِ اظہار اور دوسروں کی دل آزاری کرنے کا حق حاصل ہونا ان کا نصب العین ہے۔ ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ افراد نسل پرست ہیں، عورتوں کو کم تر سمجھتے ہیں اور یہودیت مخالف ہیں۔

یہ مومنٹ زیادہ تر تو آن لائن ہے اور اس کے ممبر باقاعدہ کسی ادارے کا حصہ نہیں اس لیے تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

کو کلکس کلین (کے کے کے)

امریکہ کا سب سے معروف سفید فام نسل پرست گروہ کے کے کے جنوبی ریاستوں کے سابق فوجیوں نے 1865 میں امریکی خانہ جنگی کے بعد قائم کیا تھا۔ اس گروہ نے پہلے جنوبی حصوں میں زور پکڑا مگر انیس سو کے اوائل میں ملک بھر میں پھیل گیا۔ اس گروہ کے مختلف حصے سیاہ فام امریکیوں، یہودیوں اور مہاجرین کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہیں اس کے علاوہ پچھلے کچھ عرصے سے ہم جنس پسند افراد بھی اس گروہ کا نشانہ بن گئے ہیں۔

اس گروہ کا مقصد ہے کہ ایسے سب لوگوں کو جن کے خلاف یہ تعصب رکھتے ہیں انہیں مساوی حقوق حاصل نہ ہوں۔ تاریخی طور پر اس گروہ کے ممبران ایسے لباس پہنا کرتے تھے جن سے اِن کے چہرے چھپ جاتے تھے اور وہ ان کپڑوں میں وہ ایسے لوگوں کی جانیں لے لیتے تھے جو جنوبی ریاستوں میں سفید فام قوم پرستی پر اعتراض کرتے تھے۔

اس گروہ کے کچھ دھڑ اپنے آپ کو 'سفید فام محب وطن عیسائی' ادارے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہ گروہ ہر امریکی ریاست میں موجود ہے اور کچھ اندازوں کے مطابق ان کی تعداد پانچ ہزار سے آٹھ ہزار کے درمیان ہے۔ کو کلکس کلین سے منسلک درجنوں گروہ ہیں جن میں کانفیڈرٹ وائٹ نائٹس اور ٹریڈشنل امیرکن نائٹس شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکی ریاست ورجینیا کے شہر شارلٹس ول میں 12 اگست 2017 کو ہونے والی مارچ میں ایک عورت ہلاک ہوئے۔

نیو نازی گروپ

نیو نازی کی اصطلاح ایسے گروہوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو یہودیت مخالف خیالات رکھتے ہیں اور انہیں ایڈولف ہٹلر اور نازی جرمنی سے محبت ہے۔ ایسے گروہوں کے خیالات امریکہ میں پہلی ترمیم کے تحت محفوظ ہیں۔ ایک مشہور کیس میں امریکی سپریم کورٹ نے پہلی ترمیم کا استعمال کرتے ہوئے ایک نیو نازی گروہ کو سکوکی اور الانوئے کے ایسے علاقوں سے سواسٹیکا یا نازی نشان اُٹھائے مارچ کرنے کی اجازت دی جہاں زیادہ تر یہودی بستے تھے۔

امریکہ میں متعدد نیو نازی ادارے ہیں جن میں امیرکن نازی پارٹی اور نیشنل سوشلسٹ مومنٹ شامل ہے۔ ان سب میں نمایاں نیشنل الائینس ہے جس کا ایک دھڑ 'یونائیٹ دا رائٹ' ہے اور اسی گروہ نے 12 اگست 2017 کو مارچ کا انعقاد کیا جس میں ایک عورت ہلاک جب کے درجنوں افراد زخمی ہوئے۔

اسی بارے میں