موصل میں کچھ باقی بچا ہے؟

موصل تصویر کے کاپی رائٹ AFP

عراق کے شمالی شہر موصل سے دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ختم کروانے کے لیے ہونے والی جنگ نے اس شہر کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔ اس لڑائی کے دوران موصل کے ہزاروں شہری مارے گئے جبکہ زندہ بچ جانے والے بھی بےگھر ہوئے۔

موصل پر قبضے کی جنگ نو ماہ تک جاری رہی جس کے بعد اب وہاں ایک ایسا انسانی بحران جنم لے چکا ہے جو تباہ کن ہے۔

ہلاکتوں کی اصل تعداد کے بارے میں اندازے ہی ہیں جو چند ہزار سے دسیوں ہزار تک کے ہیں۔ دس لاکھ سے زیادہ افراد اکتوبر میں شروع ہونے والی اس جنگ کے بعد سے شہر چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

شہر میں کئی علاقے ایسے ہیں جہاں محلے کے محلے صفحۂ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔ لاشیں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبی ہوئی ہیں اور گلیاں نہ پھٹنے والے بموں، بارودی سرنگوں اور راکٹوں سے اٹی پڑی ہیں۔

عمارتوں کی تباہی موصل جولائی 2017

سیٹیلائٹ سے لی گئی تصاویر کے جائزے سے واضح ہوتا ہے کہ ہزاروں عمارتیں اور 100 کلومیٹر سے زیادہ علاقے کی سڑکیں تباہ ہو چکی ہیں۔

موصل

جون 2014 سے دولتِ اسلامیہ عراق کے اس دوسرے بڑے شہر پر قابض تھی اور اس کا بڑا حصہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔

موصل کی جنگ کو دوسری جنگِ عظیم کے بعد شہری علاقے میں ہونے والی سب سے بڑی لڑائی سمجھا جا رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق شہر کے تمام علاقوں میں کسی نہ کسی قسم کا نقصان ضرور ہوا ہے۔ شہر کے مغربی نصف حصے میں جو جولائی میں دولتِ اسلامیہ سے حاصل کیا گیا، اس مشرقی حصے کی نسبت زیادہ تباہی ہوئی ہے جو چھ ماہ قبل حاصل کیا گیا تھا۔

موصل کے مغربی حصے کے 54 رہائشی علاقوں میں سے نصف سے زیادہ بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق ان میں سے 15 تو مکمل تباہ ہو چکے ہیں یعنی وہاں کوئی عمارت رہنے کے قابل نہیں بچی۔

مزید 23 علاقے ایسے ہیں جہاں جزوی طور پر نقصان ہوا ہے یعنی ان کی نصف سے زیادہ عمارتیں یا تو تباہ ہو چکی ہیں یا قابلِ رہائش نہیں رہیں۔ 16 علاقے ایسے ہیں جہاں معمولی نقصانات ہوئے ہیں۔

جہاں سیٹیلائٹ سے لی گئی تصاویر کے جائزے سے واضح ہوتا ہے کہ تقریباً دس ہزار عمارتیں تباہ ہوئی ہیں، حقیقی تباہی کا امکان کہیں زیادہ ہے۔

اقوامِ متحدہ کے نئے اندازوں کے مطابق ان عمارتوں کی تعداد 32 ہزار تک ہو سکتی ہے۔

عراق کے لیے اقوامِ متحدہ کی رابطہ کار لیزا گرانڈے کا کہنا ہے کہ موصل میں زندگی معمول پر آنے میں برسوں لگ جائیں گے۔

انھوں نے خبردار کیا کہ شہر کی تعمیرِ نو اور یہاں شہریوں کی واپسی ایک مشکل کام ہے جس کی لاگت ایک ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے۔

عمارتوں کا نقصان، اکتوبر 2016 سے جولائی 2017

موصل

1. لڑائی سے قبل

تباہ شدہ عمارتیں 135: (50 فیصد سرکاری عمارتیں، 21 فیصد مکانات)

لڑائی کے آغاز سے قبل ہی بہت سی سرکاری عمارتیں تباہ ہو چکی تھیں جن میں الغزلانی کا فوجی کیمپ، موصل کا ہوائی اڈہ اور شہر کی جامعہ بھی شامل تھی۔

2. لڑائی کے ابتدائی پانچ ماہ

تباہ شدہ عمارتیں 1240: (47 فیصد مکانات)

لڑائی کے پہلے مرحلے میں سڑکوں اور کارخانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ دریائے دجلہ پر واقع پانچوں پل نشانہ بنے۔ تباہ شدہ عمارتوں میں سے تقریباً نصف عام مکانات تھے۔

3. آٹھ ماہ بعد

تباہ شدہ عمارتیں 4356: (70 فیصد مکانات)

رواں برس مارچ سے جون کے درمیان، تباہ شدہ عمارتوں کی تعداد چار گنا بڑھ گئی اور 1240 سے 4356 تک جا پہنچی۔ ان میں سے 70 فیصد عام شہریوں کے مکانات تھے۔

4. تقریباً نو ماہ بعد

تباہ شدہ عمارتیں 9519: (85 فیصد مکانات)

لڑائی کے اختتامی ہفتوں میں پانچ ہزار سے زیادہ مقامات تباہ ہوئے۔ ان میں سے 98 فیصد رہائشی عمارتیں تھیں جو زیادہ تر شہر کے قدیمی علاقے میں واقع تھیں۔ شہر کی پہچان سمجھی جانے والی تاریخی مسجد النوری بھی تباہ کر دی گئی۔

لڑائی کے دوران 130 کلومیٹر طوالت کی سڑکیں بھی تباہ ہوئیں جن میں سے 100 کلومیٹر سڑکیں مغربی موصل کی تھیں۔

اتحادی افواج کے طیاروں کی بمباری سے دریائے دجلہ پر بنائے گئے وہ پانچوں پل بھی تباہ ہو گئے جو شہر کے مشرقی اور مغربی علاقوں کو ملاتے تھے۔ ان پلوں کا تباہی کا مقصد شدت پسندوں کی مشرقی موصل میں کمک پہنچانے کی کوشش ناکام بنانا تھا۔

شہر کا ہوائی اڈہ، ریلوے سٹیشن اور ہسپتالوں کی عمارتیں بھی کھنڈرات کی شکل اختیار کر گئی تھیں۔

عراقی حکومت کے اندازوں کے مطابق موصل میں صحتِ عامہ کی 80 فیصد سہولیات تباہ ہو چکی ہیں۔ موصل عراقی صوبے نینوا میں صحت کی سہولیات کا سب سے بڑا مرکز تھا۔

کس قسم کی عمارتیں تباہ ہوئیں

موصل

موصل کو آزاد کروانے کی لڑائی کے آخری چند ہفتوں میں پرانے موصل شہر کو شدید نقصان پہنچا۔

دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کو اس گنجان آباد علاقے میں گھیر لیا گیا تھا اور اور جیسے جیسے لڑائی میں تیزی آئی اس علاقے کے شہری اپنے ہی گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔

اور جب وہ باہر نکلے تو ان میں سے اکثر غذا کی کمی کا شکار، زخمی اور خوفزدہ تھے۔

Amira تصویر کے کاپی رائٹ Raber Aziz

ان میں دس برس کی عامرہ بھی تھیں۔ ان کے گھر پر گرنے والے مارٹر گولے سے ان کی ماں ہلاک ہو گئیں اور وہ خود زخمی حالت میں اکیلی رہ گئیں۔

’میں ماں کو مدد کے لیے پکارتی رہی لیکن کوئی جواب نہ ملا۔ میں ہل نہیں سکتی تھی کیونکہ میری ٹانگیں زخمی تھیں۔‘

عامرہ کے والد اس کی دیگر بہنوں اور بھائی کو لے کر پہلے ہی محفوظ علاقے کی طرف جا چکے تھے اور یوں گھر میں عامرہ کی مدد کرنے والا کوئی نہ تھا سو وہ اسی حالت میں تین دن تک پڑی رہیں۔

’میرے پاس نہ خوراک تھی نہ پانی۔ میں تین دن اور رات تک اکیلی رہی اور چیخ چیخ کر مدد کے لیے امی کو پکارتی رہی۔ میں نہیں جانتی تھی کہ وہ ہلاک ہو چکی ہیں۔‘

اب عامرہ کے زخموں کا علاج جاری ہے لیکن وہ اپنے والد اور دیگر بہن بھائیوں کے بارے میں نہیں جانتیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوا۔

یہ صرف عامرہ اور ان کے خاندان کی کہانی نہیں۔

سیٹیلائٹ سے لی گئی تصاویر سے واضح ہے کہ قدیم شہر کے 16 ہزار سے میں سے ساڑھے پانچ ہزار مکانات بری طرح تباہ ہوئے۔ حقیقی اعدادوشمار یقیناً اس سے کہیں زیادہ ہوں گے۔

شہر کا پرانا علاقہ زیادہ تر کھنڈر کی شکل اختیار کر چکا تھا۔

انٹرایکٹِو

جولائی 2017

موصل کا قدیم شہر جولائی 2017

نومبر 2015

موصبل کا قدیم شہر نومبر 2015

تباہ شدہ عمارتوں میں شہر کی پہچان سمجھی جانے والی تاریخی مسجد النوری بھی تھی۔ یہ وہی مسجد تھی جہاں دولتِ اسلامیہ کے سربراہ ابوبکر البغدادی نے جولائی 2014 میں خلافت کا اعلان کیا تھا۔

مسجد النوری کی تباہی

انٹرایکٹِو

جولائی 2017

مسجد النوری جولائی 2017

نومبر 2015

مسجد النوری نومبر 2015

عراقی افواج کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے اسے جون 2017 میں دھماکے سے اڑا دیا۔ دولتِ اسلامیہ کا دعویٰ ہے کہ مسجد امریکی فضائی حملے میں تباہ ہوئی لیکن اس دعوے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔

مسجد النوری جولائی 2014

Great Mosque of al-Nuri, July 2014 تصویر کے کاپی رائٹ EPA

مسجد النوری جولائی 2017

Great Mosque of al-Nuri, July 2017 تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس مسجد کا وہ ٹیڑھا مینار جو آٹھ صدیوں سے امتدادِ زمانہ کا کامیابی سے سامنا کرتا رہا تھا، 22 جون کو بالاخر زمیں بوس ہو گیا۔

الہدبہ مینار 20 جون 2017

Al-Hadba minaret, 20 June 2017 تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

الہدبہ مینار 22 جون 2017

Al-Hadba minaret, 22 June 2017 تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

شہری انخلا

لیکن جنھیں سب سے زیادہ نقصان پہنچا وہ موصل کے شہری تھے۔ تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کل کتنے افراد ہلاک ہوئے۔

جنوری میں اقوامِ متحدہ نے یہ تعداد اندازاً 2463 بتائی تھی لیکن ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اس کے بعد سے مزید 5805 افراد صرف فضائی حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔

کرد انٹیلیجنس کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ تعداد 40 ہزار تک ہو سکتی ہے لیکن اب بھی لاشوں کی برامدگی کا سلسلہ جاری ہے اس لیے اصل تعداد سامنے آنے میں وقت لگے گا۔

جنگ کی وجہ سے دس لاکھ شہری شہر چھوڑ گئے اور یہ تعداد لڑائی سے قبل شہر کی آبادی کا نصف ہے۔ یہ جدید تاریخ میں ہونے والی سب سے بڑی منظم نقل مکانی ہے۔

اگست کے آغاز تک پناہ گزینوں کی عالمی تنظیم آئی او ایم نے ان میں سے آٹھ لاکھ کو بدستور بےگھروں کے زمرے میں شمار کیا ہے اور ان میں سے نصف سے زیادہ کیمپوں میں مقیم ہیں۔

جو لوگ شہر میں واپس آئے ہیں وہ بھی اپنے گھروں میں نہیں رہ رہے بلکہ اپنے دوستوں یا رشتہ داروں کے یہاں مقیم ہیں۔

440000 سے زیادہ افراد کیمپوں میں مقیم

موصل

شہر سے بڑی نقل مکانی لڑائی کے آخری مہینوں میں دیکھنے میں آئی۔ عالمی تنظیم برائے مہاجرت کے مطابق گذشتہ برس اکتوبر سے رواں برس جون تک سات ہزار خاندان شہر چھوڑ کر گئے۔

جولائی میں یہ تعداد ایک لاکھ 25 ہزار تک جا پہنچی اور اب یہ تعداد ایک لاکھ 40 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔

لیکن سب لوگ شہر چھوڑ کر نہیں گئے اور ایک لاکھ سے زیادہ خاندان ایسے تھے جنھوں نے شہر کے ہی نسبتاً محفوظ علاقوں میں پناہ لینے کو ترجیح دی۔

شہر کے مشرقی حصے کی آبادی تقریباً دگنی ہو گئی ہے کیونکہ مغربی موصل سے آنے والے افراد کی منزل یہی علاقے ہیں جہاں وہ اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے پاس رہ رہے ہیں۔

Boy in Camp تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ایسے افراد میں 35 سالہ جمانہ نجم عبداللہ بھی ہیں۔ وہ پیشے کے لحاظ سے ایک ہیئرڈریسر ہیں۔

دولتِ اسلامیہ کے دور میں ان کے پیشے پر پابندی لگی لیکن وہ چھپ چھپا کر اپنا کام جاری رکھنے میں کامیاب رہیں۔

اب جب کہ شدت پسند موجود نہیں وہ کرائے کے مکان میں منتقل ہو گئی ہیں اور وہاں اپنا سیلون کھول لیا ہے۔

’میں دکان کھولنے والی پہلی شہری تھی۔ مجھے اس پر فخر ہے۔ لوگوں نے مجھے ڈرایا کہ یہ خطرناک ہے اور مجھے اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں لیکن خوش قسمتی سے مجھے کسی مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔‘

Jumana Najim Abdullah تصویر کے کاپی رائٹ UNHCR

جمانہ کہتی ہیں کہ اب جبکہ ان کی بیٹی بھی یہیں سکول جا رہی ہے وہ شہر کے مشرقی حصے میں ہی رہیں گی۔

’اگرچہ یہ میرا اصل گھر نہیں لیکن میں یہیں رہوں گی۔ مغربی موصل میں میرا گھر تو تباہ ہو چکا ہے۔‘

لوگ نقل مکانی کر کے کہاں گئے؟

جمانہ کے برعکس جن افراد نے شہر چھوڑنے کا فیصلہ کیا ان میں سے تین ہزار خاندانوں نے بغداد کا رخ کیا جبکہ اربیل کا شہر دو ہزار خاندانوں کی جائے پناہ بنا۔ ایک ہزار خاندانوں نے بغداد کے قریب واقع صلاح الدین نامی علاقے کو اپنا مرکز بنایا۔

جب اکتوبر میں موصل کو دوبارہ حاصل کرنے کی لڑائی شروع ہوئی تو شمالی عراق کے بڑے حصے پر دولتِ اسلامیہ کا قبضہ تھا۔ اسی لیے موصل چھوڑ کر جانے والوں میں سے بیشتر نے جنوب کا رخ کیا۔

جب عراقی فوج نے موصل کے قدیم شہر کی جانب پیش قدمی کی تو نقل مکانی کرنے والے خاندانوں نے قریبی شہروں جیسے کہ اربیل کا رخ کرنے کا فیصلہ کیا۔

جولائی میں جب شہر کو دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کروا لیا گیا تو تباہی کی اصل شکل سامنے آئی کہ نو ماہ میں ایک لاکھ 26 ہزار خاندانوں نے نقل مکانی کی تھی۔

موصل

موصل کا مستقبل کیا؟

اب جبکہ شہر کو آزادی مل گئی ہے، عراقی حکومت اور اس کے اتحادی شہر کی رونقیں بحال کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں لیکن یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔

شہر کی تعمیرِ نو میں تو کئی سال اور کروڑوں ڈالر لگیں گے، لیکن عراقی حکام کی توجہ اس وقت شہر کے نسبتاً بہتر علاقوں کو محفوظ بنانے اور وہاں شہریوں کی واپسی پر مرکوز ہے۔

مہینوں جاری رہنے والی لڑائی اور بمباری کے بعد شہر ایسے دھماکہ خیز مواد سے اٹا پڑا ہے جو پھٹ نہیں سکا۔ ان میں دستی بم سے لے کر توپوں کے گولوں تک سب کچھ ہے۔ شہر کے بڑے حصے میں اب بھی بارودی سرنگیں بچھی ہوئی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ اکتوبر میں صفائی کا عمل شروع ہونے کے بعد سے اب تک اس اسلحے سے ہونے والے دھماکوں میں 1700 افراد مارے جا چکے ہیں۔

برطانوی غیر سرکاری تنظیم مائنز ایڈوائزری گروپ کی عراق کے لیے ڈائریکٹر نینا سیچران نے جولائی میں جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ گذشتہ 20 برس میں میں انھوں نے ایک شہر میں اتنی بارودی سرنگیں نہیں دیکھی ہیں۔

Children of Mosul تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس تنظیم نے تین ہفتوں کے دوران صرف ایک علاقے سے ڈھائی سو سرنگیں تلف کی ہیں جن میں سے بیشتر اتنی طاقتور تھیں کہ گاڑی کو تباہ کر سکتی تھیں۔

عالمی تنظیم برائے مہاجرت کا کہنا ہے کہ شہر کے ہسپتالوں کے فرش پر ان پھٹے بم موجود ہیں جبکہ ان کے باہر ایسی کاریں کھڑی ہیں جن میں بم نصب کیے گئے ہیں۔

لیکن موصل میں مسئلہ صرف یہی نہیں۔ شہر کی اکثریتی آبادی سنی العقیدہ ہے اور ملک کی شیعہ حکومت کے لیے ان کا اعتماد حاصل کرنا آسان نہیں۔

موصل کے شہریوں کو خدشہ ہے کہ انھیں واپسی کی صورت میں حکومتی غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور یہ خوف ان کی واپسی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں