سیرالیون: سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 300 سے زائد افراد ہلاک

سیرالیون تصویر کے کاپی رائٹ EPA

افریقی ملک سیرالیون کے دارالحکومت فریٹاؤن میں بارشوں کے سبب مٹی کا تودہ گرنے اور سیلاب سے 300 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

بین الاقوامی ادارے دی ریڈ کراس کے ترجمان ابوبکر تاراولی نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک 205 لوگوں کی لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں۔

خدشہ ہے کہ اب بھی کئی لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ مقامی افراد ہاتھوں سے ملبہ ہٹا کر لوگوں کو نکالنے کے کوشش کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کئی مکانات مٹی تلے دب گئے ہیں

ملک کے صدر ارنسٹ بائی كورما نے ٹی وی پر ملک کے نام پیغام میں اسے قومی آفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے نمٹنے کے لیے ہنگامی رسپانس سینٹر بنایا گیا ہے۔

ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ 3000 لوگ سیلاب کی وجہ سے بے گھر ہو گئے ہیں۔

اس حادثے میں کم از کم 100 عمارتوں ڈوب گئی ہیں اور کئی تباہ ہو گئی ہیں۔

شہر کے دو دیگر علاقوں سے بھی لوگوں کی ہلاکت کی خبریں مل رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہزاروں لوگ سیلاب اور لینڈ سلائڈ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں

سیرالیون کے نائب صدر وکٹر بوكیریفو نے اس حادثے میں سینکڑوں لوگوں کے مارے جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

جائے حادثہ پر موجود بی بی سی نے بتایا ہے کہ جس وقت لینڈ سلائیڈ آئی تو زیادہ تر لوگ سو رہے تھے۔

یہ حادثہ پیر کی صبح دارالحکومت فریٹاؤن کے پہاڑی علاقے میں شدید بارشوں کے بعد پیش آیا۔

مرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Home Leone
Image caption مرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں