اٹلی: ’خوش قسمت ہوں کہ میرا ریپ نہیں ہوا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انتیا کا کہنا ہے کہ معمول بن جانے والے اسے رویے کو ختم ہونا ہوگا

اٹلی میں اس نوجوان لڑکی کی کہانی وائرل ہو گئی ہے جنہوں نے بتایا ہے کہ کس طرح انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا گیا اور یہ کہ وہ خوش قسمت تھیں کہ وہ ریپ کا شکار ہونے سے بچ گئیں۔

18 سالہ انتیا فالانی کا کہنا ہے کہ وہ رات کے وقت اپنے گھر واپس جا رہی تھیں جب ایک اجنبی شخص نے ان سے سوال جواب کرنے شروع کر دیے۔

انیتا نے اسے نظر انداز کیا تاہم اس شخص نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا۔

وہ سوال کرتی ہیں کہ 'مجھے حیرت ہوتی ہے کہ مجھے ایک مرد کی طرح آزادی کیوں حاصل نہیں ہے؟'

’میری بیٹی کا کیس کیوں اچھال رہے ہیں؟‘

'چھ ماہ تک ہر روز وہ میرا ریپ کرتا رہا‘

ان کے یہ الفاظ اٹلی کے میڈیا میں رپورٹ کیے گئے اور انھیں ہزاروں بار شیئر کیا گیا ہے۔

انیتا ٹسکنی کی میئر کی بیٹی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ کس طرح ایک دوست سے ملاقات کے بعد جب وہ ٹرام کا انتظار کر رہی تھیں تو ایک شخص نے انہیں ہراساں کرنا شروع کر دیا۔

انیتا اس شخص کی باتیں یاد کرتے ہوئے سوال کرتی ہیں:

'تم مجھے دیکھتے ہو اور سوچتے ہو کہ مجھے تنگ کرو گے۔ میں نے تمھیں کبھی نہیں دیکھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ تم کون ہو مگر اس سب کے باوجود تم نہیں رکتے۔‘

اور پھر وہ اس اس شخص کی باتیں یاد کرتی ہیں:

’گُڈ ایوننگ مِس۔ کیسی ہیں آپ؟ آپ کا نام کیا ہے؟ آپ جواب کیوں نہیں دے رہیں۔'

انیتا نے اس شخص کے سوالوں کو نظر انداز کیا اور ٹرام پر چڑھنے کے بعد کانوں پر ہیڈ فون لگا لیے لیکن اس شخص نے انہیں تنگ کرنا بند نہیں کیا۔

وہ بتاتی ہیں کہ جب وہ ٹرام سے اتر گئیں تب بھی اس شخص نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا۔

'مجھے رونا آرہا تھا، میں تنہا تھی اور مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں کیا کروں۔'

انیتا نے یہ ظاہر کیا جیسے وہ کسی کو فون کر رہی ہیں لیکن اس شخص نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ وہ کہتی ہیں کہ میں اس وقت واقعی بہت خوفزدہ ہو گئی جب وہ میرے پیچھے چلتا رہا اور کہنے لگا آپ کہاں جا رہی ہیں؟ کیا میرے ساتھ چل رہی ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Anita Fallani
Image caption انیتا فالانی نے فیس بک پر خود کس ساتھ پیش آنے والے اس تجربے کو بیان کیا

وہ کہتی ہیں کہ جب وہ گھر پہنچ گئیں تو انھیں تحفظ کا احساس ہوا لیکن پھر اس واقعے نے انھیں بہت غصہ دلایا۔

انیتا کہتی ہیں کہ ان جیسی کہانی بہت سی لڑکیوں کی ہو گی، اس میں کچھ بھی غیر معمولی نہیں مگر کیا یہ ان بہت سی چیزوں میں سے ہے جسے ان کی زندگیوں میں بہت ہی عام بات یا زندگی کا حصہ سمجھا جانے لگا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ یہ اتنا عام ہوگیا ہے کہ جیسے کسی چیز کے لیے ’جرمانہ ہونا‘۔

وہ کہتی ہیں کہ میں اس بات پر حیران ہوں کہ ہمیں کتنی بار خود کو خوش قسمت سمجھنا چاہیے کہ ہمارا ریپ نہیں ہوا۔

ملتان : 12 سالہ لڑکی کے ریپ کا بدلہ، 17 سالہ لڑکی کا ریپ

ترکی میں احتجاج کے بعد ریپ سے متعلق بل واپس

’میں سوچتی ہوں کہ آخر کتنی مرتبہ ہمیں یہ محسوس کرنا ہوگا کہ ہم خوش قسمت ہیں کہ چلو ہمارا ریپ تو نہیں ہوا‘

اٹلی کے اہم قومی اخباروں نے ان کی کہانی کو شائع کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر ایک دوسری پوسٹ میں انیتا نے لکھا ہے کہ انہوں نے اپنا ’بہت ہی برا اور پریشان کن‘ تجربہ اس لیے بتایا ہے کیوں کہ ’یہ ایک ایسا تجربہ ہے جو معمول تو بن چکا ہے لیکن ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے‘۔

یہ بات فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی کہ آیا حکام نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دیں ہے کہ نہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں