لبنان ریپ کرنے والے سے شادی کا قانون منسوخ

لبنان تصویر کے کاپی رائٹ AFP

لبنان کی پارلیمان نے اس قانون کو کالعدم قرار دے دیا ہے جس کے تحت ریپ کرنے والے شخص کے متاثرہ لڑکی سے شادی کرنے پر اس کی سزا معاف کر دی جاتی تھی۔

لبنان کے آرٹیکل 522 میں تبدیلی کے لیہ حقوق نسواں کی کارکنوں کی جانب سے طویل عرصے سے مطاءبہ لیا جاتا رہا ہے۔

ان کی اس مہم کو خواتین سے متعلق وزیر جین اوگاسیبیئن کی حمایت حاصل تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون پتھر کے زمانے کی کوئی چیز لگتا ہے۔

ریپ کے قانون میں تبدیلی کے لیے انوکھی مہم

ریپ ہونے والی لڑکی کی حملہ آور سے شادی کی تجویز پر تنقید

اسی طرح کی قانون سازی حال ہی میں تیونس اور اردن میں بھی کی گئی ہے۔

بعض ریاستوں مں اب بھی یہ قانون موجود ہے جن میں الجیریا، بحرینڑ عراق ڑ کویت، لیبیا اور شام شامل ہیں۔

انتظامیہ اور انصاف سے متعلق لبنان کی پارلیمانی کمیٹی نے گذشتہ سال دسمبر میں اس بات پر اتفاق کیا وہ اس قانون کے خاتمے کے لیے اپنا منصوبہ پیش کرے گی۔

وزرِ اعظم سعد حریری نے بھی اس اقدام کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

آرٹیکل 522 کے تحت اگر کسی لڑکی کو اغوا کرنے یا ریپ کرنے والا شخص متاثرہ لڑکی سے شادی کر لیتا ہے تو اس کی سزا معاف ہو سکتی تھی۔

ایک سماجی کارکن کا کہنا تھا ’ایک ریپ کا شکار عورت کے حقوق پر یہ دوسرا حملہ ہے کہ اسے غیرت کے نام پر اس کا ریپ کرنے والے سے شادی کروا کر پھنسا دیا جائے۔ ‘

ایک فیس بک پوسٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ آرٹیکل 522 خاتمے کے باوجود دیگر دو قوانین میں بااثر رہے گا کیونکہ آرٹیکل 505 میں 15 سال کی عمر تک کی لڑکی کے ساتھ سیکس کی اجازت ہے جبکہ آرٹیکل 518 کے تحت شادی کے وعدے کے ساتھ کسی کم عمر کو بہکانے پر سزا سے بچا جا سکتا ہے۔

خواتین سے متعلق وزیر جین اوگاسیبیئن نے بھی اسی قسم کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئٹر پر کہا کہ ’ایسے وقت میں جب ہم آرٹیکل 522 کے خاتمے پر خوش ہیں وہیں ہمیں آرٹیکل 505 اور 518 پر بھی تحفظات ہیں۔ ریپ کے بعد سزا سے کسی بھی قسم کی چھوٹ نا قابلِ قبول ہے۔‘

اس قانون کا خاتمہ برسوں کی مہم کا بعد عمل میں آیا ہے۔ اس مہم کے دوران ایسی ویڈیوز وائرل ہوئیں جن میں ایک بل بورڈ پر خون میں لت پت عورت پھٹے ہوئے شادی کے جوڑے میں ہے اور اس کے ساتھ یہ لکھا ہے کہ ’سفید (عروسی) جوڑا ریپ کو نہیں چھپا سکتا۔ ‘

اسی بارے میں