بارسلونا سمیت مختلف شہروں میں سیاحوں کے خلاف مہم

سپین تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بارسلونا ہوائی اڈے پر عملے کے سمیت مختلف مظاہرین بھی موجود ہیں۔

سپین کے سب سے اہم سیاحتی مقام بارسلونا میں احتجاج کے بعد وہاں جانے والے سیاحوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

شہر کے ہوائی اڈے پر پہنچنے والوں کو وہاں جاری عدم استحکام کا اندازہ ہوائی اڈے پر لگے پوسٹرز سے ہوگا۔ مگر وہاں ہاتھ اٹھائے مظاہرین ہوائی اڈے کے ہڑتال کرنے والے ملازمین ہونے کا امکان زیادہ ہے جو کہ بہتر تنخواہ اور مرعات کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔

صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہسپانوی سول گارڈ کو مدعو کر لیا گیا ہے تاہم اب تک صورتحال میں بہتری نظر نہیں آئی ہے۔

سیاح جب شہر میں پہنچیں تو بہت امکان ہے کہ انھیں سیاحت مخالف گرافیٹی یا پوسٹر نظر آئیں جن پر اکثر لکھا ہے کہ سیاحوں کی مانگ کی وجہ سے عام شہریوں کے لیے مکانوں کے کرایے پورے کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

اس طرح کی مہمات سپین کے دیگر علاقوں میں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ سپین دنیا میں سیاحت کے حوالے سے تیسری بڑی منڈی ہے۔

ادھر برطانیہ میں ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن ایبٹا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’سیاحت یورپی شہروں کے لیے اقتصادی طور پر انتہائی اہم ہے اور گذشتہ چند سالوں میں تو وہ اور بھی اہم ہو گیا ہے۔

’زیادہ تر افراد یہ بات سمجھتے ہیں کہ سال کے کچھ حصوں میں انھیں اپنے شہر کافی سارے سیاحوں کے ساتھ شیئر کرنے پڑیں گے۔

’تعداد پر کنٹرول‘

ایبٹا اس مسئلے کا ذمہ دار ایئر بی اینڈ بی جیسی آن لائن سروسز کو ٹھہراتی ہے جو کہ روایتی سیاحتی بزنس ماڈل کو نقصان پہنچاتے ہیں اور غیر قانونی سیاحتی رہائش گاہوں کو فروغ دیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سیاحوں کو عندیہ دینے والے پوسٹرز

تنظیم کا کہنا ہے کہ پیئر ٹو پیئر اکانومی کی گذشتہ چند سالوں میں تیزی سے مقبولیت کی وجہ سے بہت سے شہروں میں سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور اس سیکٹر میں قانونی سازی کی کمی کی وجہ سے سیاحوں کی تعداد کا درست اندازہ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔

’ہمیں ایسے نظام چاہییں جو کہ سیاحوں، مقامی رہائشیوں اور سیاحتی بزنس تینوں کے مفادات کا خیال رکھیں۔ منطقی لحاظ سے یہ نظام پیئر ٹو پیئر رہائشیوں اور ہوٹلوں میں ٹھہرنے والے دونوں قسم کے سیاحوں کا خیال رکھے۔‘

ایبٹا کا موقف درست بھی ہو سکتا ہے۔ کچھ اندازوں کے مطابق بارسلونا میں سیاحتی رہائش گاہوں میں سے 40 فیصد تک ایسے ہیں جنھیں حکام کی اجازت کے بغیر کرائے پر دیا جا رہا ہے مگر اس کی وجہ سے مقامی لوگوں کے لیے قدرے کم قیمت رہائش ڈھونڈنا مشکل ہو گیا ہے۔

ادھر ٹوئر گائڈ آپریٹر اور دیگر مقامی کاروباروں کا کہنا ہے کہ سیاحوں کے خلاف احتجاج کے باوجود لوگوں کے آنے میں کمی نہیں ہوئی اور شاید سپین کی حکومت کو بھی یہی امید ہوگی کہ سیاحوں کی تعداد کم نہ ہو۔

گذشتہ سال سات کروڑ 50 لاکھ سیاح سپین آئے اور 2017 میں توقع ہے کہ 83 آٹھ کروڑ 30 لاکھ سیاح سپین جائیں گے۔

سپین ابھی بھی 2007-08 کے عالمی مالیاتی بحران سے بہتری کی کوشش کر رہا ہے اور سیاحت اس وقت قومی سطح پر انتہائی اہم ہے۔

ٹریول ایجنسیوں کو سافٹ ویئر فراہم کرنے والی کمپنی ٹریک سافٹ کی اہم عہدیدار لوسی فگل حالیہ بحران کو اس بات کا عندیہ سمجھتی ہیں کہ سیاحت کی صنعت کو تبدیل ہونا پڑے گا۔ ’یہ بحران پریشان کن ہے مگر اقتصادی کے بجائے اس میں جذبات کا عنصر اہم ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سیاحوں کی وجہ سے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

’سیاحت جاری رہے گی، اس میں کوئی شک نہیں، مگر ہم دیکھ رہے ہیں کہ کچھ چیزوں کو تبدیل ہونا پڑے گا، جیسے کہ بہتر قانون سازی اور مختلف شہروں کے درمیان پیسوں کی بہتر انداز میں بٹوارا۔‘

مستقبل کے خدشات

مظاہرین شاید اس سال سیاحوں کی تعداد پر اثر انداز نہیں ہو سکیں گے۔ سیاحوں کی تعداد میں اضافے عالمی اقتصادی فورسز کا نتیجہ ہیں۔ ترکی، تیونس، اور مصر جیسی ماضی میں مقبول سیاحتی مقامات میں سیکورٹی خدشات کے باعث سپین انتہائی پرکشش مقام بن گیا ہے۔

مگر خیال کیا جا رہا ہے کہ حالیہ مظاہرن کا اثر سنہ 2018 میں محسوس کیا جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں