بارسلونا: پولیس مبینہ وین ڈرائیور کی تلاش میں مصروف

Younes Abouyaaqoub تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty
Image caption پولیس کا کہنا ہے کہ وہ مبینہ ڈرائیور مراکشی نژاد یونس ابو یعقوب کو تلاش کر رہی ہے

سپین کے شہر بارسلونا میں پولیس حکام اُس ڈرائیور کی تلاش میں مصروف ہیں جس کی وین کی زد میں آ کر 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ وین کے مبینہ ڈرائیور مراکشی نژاد یونس ابو یعقوب کو تلاش کر رہی ہے۔

اس سے قبل پولیس نے ایک کارروائی کے دوران مشتبہ شخص موسیٰ اوبکر کو ہلاک کر دیا تھا۔

بارسلونا: حملہ آور نے لوگوں کو کچل دیا، 13 افراد ہلاک

بارسلونا میں سیاحوں پر حملہ، تصاویر

پولیس کے مطابق موسی اوبکر کیمبرلز میں ہونے والے حملے میں مارے جانے والے پانچ مشتبہ افراد میں شامل تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ مشتبہ افراد ایک اور حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

مراکشی نژاد ابو یعقوب کی عمر 22 سال ہے اور وہ بارسلونا کے شمال بارسلونا کے ایک قصبے ریپول کے رہنے والے ہیں۔ پولیس ان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مار رہی ہے۔

خیال رہے کہ بارسلونا میں ہونے والے حملے میں 13 افراد اس وقت ہلاک ہوئے جب ایک وین جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اسے اوبکر نے کرائے پر حاصل کیا تھا پیدل چلنے والے افراد پر چڑھ گئی۔

پولیس کے مطابق مشتبہ افراد مزید منظم حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

پولیس کے مطابق سپین میں گذشتہ دنوں ہونے والے دو حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 14 ہو گئی ہے۔ 13 افراد بارسلونا حملے میں مارے گئے تھے جبکہ کیمبرلز حملے میں زخمی ہونے والی خاتون بھی دم توڑ گئیں تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سپین کے مقامی روزنامے کے مطابق اس بات کا قومی امکان ہے کہ بارسلونا میں کیے گئے حملے میں ابو یعقوب ملوث ہے۔

اس سے حملے سپین کے میڈیا نے 18 سالہ موسیٰ اوبکر کو مشتبہ شخص بتایا تھا۔ موسیٰ اوبکر، دریس اوبکر کے بھائی ہیں جن کے کاغذات مبینہ طور پر حملے میں استعمال کی جانے والی وین کو کرائے پر حاصل کرنے کے لیے استعمال کیے گئے تھے۔

پولیس کے مطابق مارے جانے والے پانچ مشتبہ افراد کا تعلق گذشتہ روز شہر بارسلونا میں ہونے والے حملے سے تھا۔

سپین کے وزیراعظم نے اس واقعے کو ’جہادیوں کا حملہ‘ قرار دیا تھا اور اس حملے کے بعد تین روزہ سوگ کا اعلان کیا تھا۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملہ آور شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے براہ راست رابطے میں تھے یا اُن کے لیے ہمدردی رکھتے ہیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ دہشت گرد ایک دوسرا حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے دھماکہ خیز مواد سے بھری بیلٹس پہنی ہوئی تھیں۔

حکام بارسلونا اور کیمبرلز کے حملوں کے تانے بانے بدھ کو ایک گھر میں ہونے والے دھماکے سے جوڑتے ہیں، جس میں ایک شخص ہلاک ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کیمرلز میں پولیس کی گولیوں کا نشانہ بننے والا ایک حملہ آور زخمی بھی ہے۔

سپین کے میڈیا کے مطابق کیمبرلز میں بھی حملہ آوروں نے جمعے کی صبح ایک گاڑی سے لوگوں کو کچلنے کی کوشش کی اور کئی لوگ زخمی ہوئے۔ یہ حملہ بالکل بارسلونا والے حملے کی طرز پر تھا۔

ایک دوسرے واقعے میں بارسلونا کے نواحی علاقے میں پولیس ایک چیک پوسٹ پر ایک شخص کو ہلاک کیا جس نے گاڑی پولیس اہلکاروں پر چڑھانے کی کوشش کی۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس کا تعلق بارسلونا حملہ آوروں سے تھا یا نہیں۔

پولیس نے اس شخص کی تصویربھی جاری کی ہے جس کے کاغذات کے مطابق بارسلونا حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی کرائے پر حاصل کی تھی۔

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب سپین میں سیاحت اپنے عروج پر ہوتی ہے۔

گذشتہ برس جولائی کے بعد سے یورپ میں کیے جانے والے حملوں کے دوران اسی طرح پیدل چلنے والے لوگوں پر گاڑیاں چڑھائی گئیں۔

سپین کے وزیرِ اعظم نے بارسلونا کے دورے پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا اور کہا کہ ’دہشت گردوں کو ہم نے اتحاد سے شکست دے دی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب سپین میں سیاحت اپنے عروج پر ہوتی ہے

امریکہ حملے کے بعد تحقیقات کے لیے سپین کو اپنے تعاون کی پیشکش بھی کی ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹیلرسن کا کہنا تھا کہ ’دنیا بھر کے دہشت گرد جان لیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کا ارادہ کر لیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں