بوسٹن میں دائیں بازو کی ریلی کے خلاف ہزاروں کا مارچ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ریلی کے مخالف مظاہرین نے بینڈ سٹینڈ کے علاقے کو گھیرے میں لے لیا تھا تاہم حکام نے انھیں ایک مخصوص فاصلے پر رکھا۔

امریکی شہر بوسٹن میں ہزاروں مظاہرین نے ’فری سپیچ‘ نامی اس ریلی کی مخالفت کی ہے جس میں انتہائی دائیں بازو کے شرکا شامل تھے۔

بوسٹن کامن میں منعقد ہونے والی اس ریلی میں شرکا کی تعداد قدرے کم رہی اور پولیس نے اس ریلی کو ختم کروا دیا تھا۔

نسلی ہنگاموں کے لیے دونوں اطراف قصوروار ہیں: ٹرمپ

’سیاستدان ایک نفرت انگیز دنیا تشکیل دے رہے ہیں‘

یاد رہے کہ فری سپیچ ریلی کے منتظمین نے پہلے کہا تھا کہ وہ نسل پرستی یا نفرت آمیز باتوں کو پلیٹ فارم فراہم نہیں کریں گے۔

یاد رہے کہ امریکہ میں گذشتہ ہفتے ریاست ورجنیا کے شہر شارلٹس وِل میں احتجاجی مظاہروں میں تصادم کے بعد ایک ٹینشن کی فضا ہے۔

بوسٹن ہیرلڈ کے مطابق فری سپیچ ریلی کے خلاف ایک احتجاج میں شرکت کرنے والوں کی تعداد 30000 تک تھی۔ زطاہرین بوسٹن سپورٹس سنٹر میں جمر ہوئے اور انھوں نے بوسٹن کامن کی جانب مارچ کرنا شروع کر دیا۔

جائے وقوع پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار علیم مقبول کا کہنا ہے کہ قدامت پسند فری سپیچ ریلی کے شرکا کو بوسٹن کامن کے بینڈ سٹینڈ حصے میں محدود کیا گیا تھا۔

ریلی کے مخالف مظاہرین نے بینڈ سٹینڈ کے علاقے کو گھیرے میں لے لیا تھا تاہم حکام نے انھیں ایک مخصوص فاصلے پر رکھا۔

بہت سے لوگوں نے ہیدر ہیئر کے نام کے سٹیکر پہن رجکھے تھے جو سنیچر کے روز ریلی میں اس وقت ہلاک ہو گئیں جب ایک شخص نے دائیں بازو کے انتہائی قدامت پسندوں کی مخالف ریلی میں لوگوں پر گاڑی چڑھا دی تھی۔

مالڈن سے بوسٹن آئی کیٹی زپس کا کہنا تھا کہ ’اب کچھ کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ ہم اس لیے آئے ہیں کہ ہم مزاحمت کرنے والوں کا ساتھ دیں۔‘

لوگوں نے اس ریلی میں تعرے لگائے ’نو نازیز، نو کے کے کے، نو فاسشٹز ان یو ایس اے!‘ لوگوں کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ ماننا روکنا پڑے گا کہ نسل پرستی حب الوطنی ہے۔

اس موقعے پر سینکڑوں پولیس اہلکاروں کو سکیورٹی کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں