ترکی کے صدر اردوگان کے ناقد کو سپین میں گرفتار کر لیا گیا

ترکی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 60 سالہ مصنف ڈوگان اخنالی ترکی میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی پر لکھتے رہے ہیں

سپین میں حکام نے ترکی کی درخواست پر ترک صدر رجب طیب اردوگان کے ناقد دوگان اخنالی کو گرفتار کر لیا ہے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ گرفتاری کا وارنٹ کن وجوہات پر جاری کیا گیا ہے۔

ترکی بغاوت :500 افراد کےخلاف کارروائی شروع

’اس رات لوگوں کے پاس بندوقیں نہیں پرچم تھے‘

ناکام بغاوت کے ایک سال بعد ترکی میں ہزاروں برطرفیاں

دوگان اخنالی کو سپین کے شہر غرناطہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ترکی اور جرمنی سے تعلق رکھنے والے دوگان اخنالی کی حراست پر جرمنی کی پارلیمان کے رکن ولکر بیک نے کہا ہے کہ یہ گرفتاری سیاسی مقاصد کے لیے کی گئی ہے اور اس وجہ سے انھوں نے سپین کے حکام سے اپیل کی ہے کہ ڈوگان اخنالی کو ترکی کے حوالے نہ کیا جائے۔

ولکر بیک کے مطابق یہ قدم ظاہر کرتا ہے کہ صدر اردوگان اپنے 'اختیارات کو ترکی کی سرحد سے بڑھانے چاہ رہے ہیں تاکہ اپنے ناقدین اور مخالفین کو ڈرا دھمکا سکیں اور ان کی پیچھا کریں۔'

یاد رہے کہ گذشتہ سال جولائی میں ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے صدر اردوگان میں ملک میں اپنے ہزاروں مخالفین جن میں اساتذہ، سرکاری افسران، صحافی اور دیگر کئی لوگ شامل ہیں ان کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں ترک صدر کے مخالف میڈیا کی تنظیموں کو بھی بند کرا دیا گیا ہے۔

60 سالہ دوگان اخنالی نے 2007 میں ترکی اور آرمینیا سے تعلق رکھنے والے صحافی رانٹ ڈنک اور اس سے پہلے 1915 میں آرمینیائی باشندوں کی عثمانیہ دور میں قتل عام کے بارے میں لکھا ہے۔ اس قتل عام کو پچھلے سال جرمنی کی پارلیمان نے نسل کشی کے طور پر تسلیم کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ ماہ فوجی بغاوت کے ایک سال مکمل ہونے پر ترک صدر نے کہا تھا کہ وہ ان 'غداروں کے سر پھوڑ دیں گے' جنھوں نے بغاوت کی منصوبہ بندی کی

دوگان اخنالی کے وکیل الیاس ایئور نے جرمنی کے اخبار ڈر شپیگل سے گفتگو میں کہا کہ 'یہ ناقبل یقین بات ہے کہ اب ترکی نقادوں کا ملک کی حدود سے باہر بھی تعاقب کر رہا ہے۔'

اس سال فروری میں جرمنی اور ترکی سے تعلق رکھنے والے ایک اور صحافی ڈینز یوسل کو ترکی میں مبینہ طور پر دہشت گردوں کے پراہیگنڈہ کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا اور وہ اب تک پولیس حراست میں ہیں۔

ترکی اور جرمنی کے تعلقات میں مزید دراڑیں بڑھ گئیں جب جمعہ کو جرمنی نے ترکی کے صدر اردوگان پر الزام لگایا کہ انھوں نے جرمنی میں رہائش پذیر ترک شہریوں پر زور دیا کہ وہ جرمنی میں ہونے والے انتخابات میں ووٹ نہ ڈالیں۔

اس سے قبل مارچ میں بھی اردوگان نے جرمن حکام پر الزام لگایا تھا کہ وہ ترکی شہریوں پر جرمنی میں اردوگان کی حمایت میں نکالے جانے والی ریلییوں پر پابندی عائد کر کے نازیوں جیسا سلوک کر رہے ہیں۔

ان تمام اختلافات کے باوجود دونوں ملک ایک دوسرے کے اہم تجارتی ساتھی اور نیٹو میں اتحادی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں