بارسلونا: دہشت گرد حملے کا اہم ملزم فائرنگ سے ہلاک

سپین بارسلونا تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سپین میں پولیس نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کو بارسلونا میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے اہم ملزم کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم یونس ابو یعقوب نے دھماکہ خیز مواد والی نقلی بیلٹ پہنی ہوئی تھی۔

بارسلونا حملہ آور یونس ابو یعقوب ہے: پولیس

بارسلونا: حملہ آور نے وین سے لوگوں کو کچل دیا، 13 افراد ہلاک، 50 سے زائد زخمی

اس سے قبل پولیس نے تصدیق کی تھی کہ وہ 22 سالہ ابو یعقوب کی تلاش میں ہیں جن پر شک تھا کہ انھوں نے جمعرات کو شہر کے ایک مصروف مقام پر پیدل چلنے والے درجنوں افراد کو وین کے نیچے کچل دیا تھا۔

سپین کے میڈیا نے پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پولیس کے للکارنے پر ابو یعقوب نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔

حکام کا کہنا ہے کہ بم ڈسپوزل یونٹ نے روبوٹ کے ذریعے جعلی دھماکہ خیز مواد سے بھری جیکٹ کا معائنہ کیا اور اس کے بعد ابو یعقوب کی ہلاکت کی سرکاری طور پر تصدیق کی گئی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن تاحال جاری ہے جبکہ مقامی ریڈیو سیڈانا سر کے مطابق اس آپریشن میں ایک اور شخص اور وین کو تلاش کیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ CATALAN POLICE/EL PAIS
Image caption بارسلونا کے دہشت گرد حملے کا اہم ملزم

پولیس کے مطابق یہ کارروائی بارسلونا سے 40 کلو میٹر دور کی گئی۔

مقامی شہریوں نے بتایا کہ بیس کے قریب پولیس کی گاڑیاں جائے وقوعہ کی جانب گئیں جبکہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے فضائی نگرانی کی جا رہی تھی۔

سپین کے وزیراعظم نے اس واقعے کو 'جہادیوں کا حملہ' قرار دیا تھا اور اس حملے کے بعد تین روزہ سوگ کا اعلان کیا تھا۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملہ آور شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے براہ راست رابطے میں تھے یا اُن کے لیے ہمدردی رکھتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں