امریکی بحریہ کا حادثے کے بعد دنیا بھر میں’ آپریشنل سرگرمیاں روکنے‘ کا اعلان

بحریہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یو ایس ایس جان مکین کے بیرونی حصے پر ہونے والا شگاف واضح نظر آرہا ہے

امریکی بحریہ نے اپنے جنگی جہاز کی آئل ٹینکر سے ٹکر کے بعد دنیا بھر میں آپریشنل سرگرمیوں روکنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی بحریہ کی جانب سے یہ فیصلہ پیر کو جنگی بحری جہاز یو ایس ایس جان مکین کی سنگاپور کے نزدیک آئل ٹینکر سے ٹکرانے کے بعد کیا گیا۔

٭ امریکی بحری جہاز کو حادثہ، دس اہلکار لاپتہ

* امریکی آبی ڈرون چین کے قبضے کی تصدیق، ’فوجی رابطے جاری ہیں‘

اس حادثے میں عملے کے پانچ افراد زخمی ہو گئے ہیں اور دس لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے امریکی فوج کے ہیلی کاپٹروں کے ساتھ سنگاپور اور ملائیشیا کی بحریہ بھی مدد کر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سنگاپور کی فضائیہ کے ہیلی کاپٹروں کی مدد سے زخموں کو ہسپتال منتقل کیا گیا

امریکی بحریہ نے حادثے کے بعد بحرالکاہل میں تعینات اپنے بحری بیڑے کی مکمل جانچ پڑتال کا حکم دیا ہے۔

امریکی بحریہ میں آپریشنلز کے سربراہ ایڈمرل جان رچرڈسن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ'یہ رجحان مزید ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کرتا ہے، اس کے لیے میں نے دنیا بھر میں موجود اپنے بحری بیڑوں کی آپریشنل سرگرمیوں کو روکنے کا حکم دیا ہے۔'

خیال رہے کہ امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں کو رواں برس میں پیش آنے والا یہ چوتھا حادثہ تھا جس میں صرف دو ماہ کے دوران دو حادثے پیش آئے۔

اس سال جون میں امریکی بحریہ کی ایک اور جہاز یو ایس ایس فٹزگیرالڈ جاپان کے نزدیک ایک کنٹینر جہاز سے ٹکرا گیا تھا جس کے نتیجے میں عملے کے سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پیر کو یو ایس ایس جان مکین سنگاپور کے مشرقی ساحل سے گزرتے ہوئے بندرگاہ کی جانب جا رہا تھا جب لابیئریا کے جھنڈے سے مزین آئل ٹینکر سے اس کی ٹکر ہوئی۔

امریکی بحریہ کے بیڑے، سیونتھ فلیٹ کے جانب سے جاری کیے گیے بیان میں بتایا گیا ہے کہ یو ایس ایس جان مکین اب سنگاپور کے نیول بیس پر پہنچ چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Malaysian Navy Chief
Image caption ملائیشیا کی بحریہ کے سربراہ نے آلنک ایم سی نامی آئل ٹینکر کی تصویر ٹویٹ کی

بیان میں مزید کہا گیا: 'جہاز کے بیرونی حصے کو کافی نقصان پہنچا ہے جس کی وجہ سے جہاز کے کئی اہم حصوں میں پانی بھر گیا ہے۔ عملے کی فوری کارروائی سے مزید نقصان روک لیا گیا۔'

آلنک ایم سی نامی آئل ٹینکر کے عملے میں سے ایک فرد نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جہاز 12000 ٹن تیل تائیوان سے سنگاپور لے جا رہا تھا لیکن حادثے سے زیادہ نقصان نہیں ہوا ہے اور نہ ہی تیل کا ضیاع ہوا اور تمام عملہ محفوظ ہے۔

تفصیلات کے مطابق حادثہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے پانچ بجے کے قریب ہوا جب امریکی بحریہ کا جہاز سنگاپور کی بندرگاہ پر پہنچنے والا تھا۔

سنگاپور کے پاس موجود یہ گزرگاہ دنیا کی چند مصروف ترین گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے بڑی تعداد میں بحری جہاز ساز و سامان اور تیل کی ترسیل کرتے ہیں۔ اسی جگہ کے نزدیک سٹریٹ آف مالاکہ کی گزرگاہ ہے جو انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں