ترکی: سکولوں کے نصاب میں تبدیلی، نظریہ ارتقا حذف اور مذہبی تعلیمات میں اضافہ

ترکی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ترکی کے سکولوں میں ستمبر سے نیا نصاب پڑھایا جائے گا

اس سال ستمبر سے ترکی کے سکولوں میں نیا نصاب پڑھایا جائے گا جس میں کی گئی مختلف تبدیلیوں میں سے سب سے اہم تبدیلی سیکنڈری ایجوکیشن کے نصاب میں کی گئی ہے جس میں سے نظریہ ارتقا کا باب نکال دیا گیا ہے۔

ان متنازع تبدیلیوں میں جدید ترکی کے بانی مصطفی کمال اتاترک کی زندگی کے بارے میں پڑھائے جانے کے اوقات میں کمی کی گئی ہے جبکہ جہاد کے بارے میں ابتدائی تعلیم کو نصاب شامل کیا گیا ہے اور مذہبی تعلیم دینے کے لیے کلاسوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔

* ’اس رات لوگوں کے پاس بندوقیں نہیں پرچم تھے‘

گذشتہ سال جولائی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے بارے میں بھی باب نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔

ترکی کی سیکولر حزب مخالف نے ان تبدیلیوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان اور ان کی حکمران جماعت ان مروجہ تبدیلیوں سے ترکی کو کو مذہب اور اسلام پسندی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ یاد رہے کہ ترکی کے صدر متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی خواہش ہے کہ ملک کی آنے والی نسلیں نیک اور پرہیزگار ہوں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وزیر تعلیم عصمت یلماز نے کہا کہ 'ہم نے غیر ضروری، تکرار سے بھرپور اور فرسودہ مضامین کو نصاب سے نکال دیا ہے اور یہ مناسب نہیں کہ ہم ان معمولی تبدیلوں پر بات کریں جبکہ ہم نے ایک لاکھ سے زیادہ تبدیلیاں کی ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چارلس ڈارون کے پیش کیے گئے نظریہ ارتقا کے ابتدائی ابواب نصاب سے حذف کر دیے گئے ہیں

'ڈارون کے بغیر نصاب'

وزیر تعلیم نے اس بات سے انکار کیا کہ چارلس ڈارون کا نظریہ ارتقا سکولوں کے نصاب سے مکمل طور پر نکال دیا گیا ہے۔

'ہم ارتقا کے خلاف نہیں ہیں۔ اگر سائنس کے مطابق کوئی بات کہی جائے تو اس کی نفی کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسے مزید کئی ابواب ہیں جو ارتقا سے متعلق ہیں اور وہ تمام نظریہ ارتقا کے زمرے میں آتے ہیں۔

عصمت یلماز کے مطابق 'ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ اس مضمون کو سکولوں میں پڑھانے کے بجائے یونیورسٹی کی سطح پر پڑھایا جائے۔'

ان کے دلائل کے برخلاف ناقدین کا کہنا ہے کہ سکولوں میں نظریہ ارتقا کے ابتدائی ابواب کو حذف کر دیا گیا ہے اور ان کے بغیر اگلے درجے کے ابواب پڑھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

تعلیمی نصاب کی ترویج اور بہتری کی تنظیم ایجوکیشن ریفارم انیشی ایٹیو کی آئیسل مدرا نے کہا کہ 'طلبہ کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ نظریہ ارتقا کے بنیادی اصولوں کو پڑھیں اور سمجھیں۔ اس کے بغیر دشوار درجے کے ابواب سے ان کو مضمون کے بارے میں سمجھنا مشکل ہوگا۔'

ترکی کے اساتذہ کی ایک اہم ترین یونین ایگتم از کے نمائندے اورہان یلدرم نے کہا کہ 'نظریہ ارتقا کے اہم ترین باب کو حذف کر دیا گیا ہے۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ نظریہ ارتقا ویسے پڑھایا جائے جیسے الہامی کتابوں میں ہے کہ ہم آدم اور حوا کی اولاد ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ترکی کے وزیر تعلیم عصمت یلماز

'جہاد کی تعلیم'

اورہان یلدرم نے سکولوں کے نصاب میں جہاد کی تعلیم شامل کرنے کے فیصلے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ 'آپ مسجد سے نکلنے والے کسی بھی شخص سے پوچھ لیں کہ جہاد کا مطلب کیا ہے، 99 فیصد لوگ آپ کو بتائیں گے کہ مشرق وسطی میں ہونے والی جنگ کی اصل وجہ جہاد ہے۔ ہم حکومت کو جہاد کے لفظ کے معنی بدلنے نہیں دیں گے اور نہ ہی اسے عام استعمال کرنے دیں گے۔'

دوسری جانب عصمت یلماز نے کہا کہ جہاد کے معنی کو توڑ مروڑ کے پیش کیا گیا ہے جبکہ اس کے اصل معنی ہیں معاشرے کی مدد کرنا اور امن پھیلانا۔ انھوں نے کہا کہ نصاب میں تبدیلیاں تقریباً دو لاکھ افراد کی مشاورت سے کیا گیا ہے۔

لیکن اساتذہ کی تنظیم نے کہا ہے کہ ان سے نصاب میں تبدیلیوں کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی۔

اورہان یلدریم نے اصرار کیا کہ یہ تبدیلیاں نظریاتی بنیادوں پر کی گئی ہیں۔

'یہ تبدیلیاں ترکی کے نصاب پر حملہ ہیں۔ اگر آپ کسی ملک کے نصاب تعلیم کو تباہ کر دیں تو اس ملک کا ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہونا ناممکن ہو جائے گا۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں