امریکہ پالیسی دہشت گردی سے نمٹنے کی مشترکہ جدوجہد ہے: اشرف غنی

پاکستان، افغانستان تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption افغانستان کے صدر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ پاکستان سے دہشت گرد افغانستان میں کارروائیاں کرتے ہیں

انڈیا نے افغانستان سے متعلق امریکہ کی نئی پالیسی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا افغان عوام کے ساتھ اپنی دوستی نبھاتے ہوئے تعمیرو ترقی میں معاونت جاری رکھے گا۔

انڈیا نے کہا کہ 'ہم پرامن، خوشحال اور مستحکم افغانستان کے لیے پرعزم ہیں۔'

انڈیا کے وزارتِ خارجہ امور کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ 'انڈیا افغانستان اور سرحد کے اُس پار دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے اور مختلف چیلنجز کا مقابلے کرنے کے لیے امریکہ کے اقدامات کا خیر مقدم کرتا ہے۔'

بیان کے مطابق دہشت گردی کے معاملے میں 'انڈیا کے خدشات اور مقاصد مشترکہ ہیں۔'

ادھر افغانستان کے صدر اشرف غنی نے امریکی افواج کی ملک میں موجودگی کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا اورامریکی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد قرار دیا۔

افغانستان کے صدارتی دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے افغانستان اور امریکہ شراکت داری اہم ترین موڑ پر ہے۔

* پاکستان کو دہشت گردی کا کفیل ملک قرار دینے کا مطالبہ

* ’حقانی نیٹ ورک نہ ہمارے دوست ہیں اور نہ پراکسی‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ 'ہماری افواج اپنی طاقت سے طالبان سمیت دیگر دہشت گردوں کو یہ باوار کروائیں گی کہ وہ کبھی بھی ہم پر عسکری برتری حاصل نہیں کر سکتے ہیں۔ قیامِ امن ہماری ترجیح ہے۔'

افغان صدارتی دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 'یہ دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ جدوجہد ہے۔'

یاد رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کے بارے میں اپنے پالیسی بیان میں کہا تھا کہ جلد بازی میں افغانستان سے افواج کے انخلا سے دہشت گردوں کو فائدہ ہو گا۔

پیر کو صدر ٹرمپ نے پاکستان، افغانستان اور انڈیا کے بارے میں اپنی انتظامیہ کی پالیسی کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے معاملے میں امریکہ کے اہداف بالکل واضح ہیں اور وہ چاہتا ہے کہ اس خطے میں دہشت گردوں اور ان کی پناہ گاہوں کا صفایا ہو۔

افغانستان کے بارے بات کرتے ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی افواج افغانستان میں رہیں گی اور اس بارے میں وہ زمینی حقائق پر مبنی فیصلے کریں گے جس میں ڈیڈ لائن نہیں ہوں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جنوبی ایشیا کے بارے میں اپنی پہلی تقریر میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ خطے میں امریکہ اہداف واضح ہیں

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کا پہلے ارادہ تھا کہ وہ افغانستان سے فوجیں جلد واپس بلا لیں گے لیکن وہ عراق میں کرنے والی غلطیاں نہیں دہرائیں گے اور اس وقت تک ملک میں موجود رہیں گے جب تک جیت نے مل جائے۔

صدر ٹرمپ نے افغانستان کی ترقی میں انڈیا کے کردار کی بھی تعریف کی اور ان پر زور دیا کہ وہ اقتصادی اور مالی طور پر بھی افغانستان کی مدد کریں۔

دوسری جانب انڈیا نے امریکی کی نئی پالیسی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا افغان عوام کے ساتھ اپنی دوستی نبھاتے ہوئے تعمیرو ترقی میں معاونت جاری رکھے گا۔

انڈیا نے کہا کہ 'ہم پرامن، خوشحال اور مستحکم افغانستان کے لیے پرعزم ہیں۔

انڈیا کے وزارتِ خارجہ امور کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ 'انڈیا افغانستان اور سرحد کے اُس پار دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے اور مختلف چیلنجز کا مقابلے کرنے کے لیے امریکہ کے اقدامات کا خیر مقدم کرتا ہے۔'

بیان کے مطابق دہشت گردی کے معاملے میں 'انڈیا کے خدشات اور مقاصد مشترکہ ہیں۔'

یاد رہے کہ انڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں انڈیا میں بھی شر پسندی میں ملوث ہیں۔

امریکی فوج نے افغانستان میں براہ راست فوجی کاروائی 2014 سے ختم کر دی ہے اور اس وقت ملک میں 8400 موجود ہیں جو کہ افغان فوج کی مدد کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں